37842- "مسند عمر" عن الشعبي قال: ساوم عمر بن الخطاب بفرس فركبه ليشوره1 فعطب، فقال الرجل: خذ فرسك، فقال الرجل: لا، فقال: أجعل بيني وبينك حكما، قال الرجل: شريح، فتحاكما إليه، فقال شريح يا أمير المؤمنين! خذ ما ابتعت أو رد كما أخذت، قال عمر: وهل القضاء إلا هكذا! سر إلى الكوفة، فبعثه إليها قاضيا عليها، وإنه لأول يوم عرفه فيه."عب، وابن سعد".
٣٧٨٤٢۔۔۔ (مسند عمر (رض)) شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک گھوڑے کی قیمت لگوائی پھر اس کو پرکھنے کے لیے اس پر سوار ہوئے مگر گھوڑا ہلاک ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) نے مالک کو فرمایا : اپنا گھوڑا لے لو۔ مالک بولا : نہیں۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اپنے اور تمہارے درمیان قاضی (فیصلہ کرنے والا) مقرر کرتا ہوں۔
آدمی نے کہا : شریح کو مقرر کیجئے۔ چنانچہ دونوں شریح (رح) کے پاس گئے۔
شریح نے کہا : اے امیر المومنین ! جو آپ نے خریدا ہے وہ لے لو ورنہ جیسی حالت میں خریدا تھا ویسی حالت میں واپس
کردو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بیشک یہی درست فیصلہ ہے۔ تم کوفہ جاؤ۔ چنانچہ حضرت امیر المومنین نے شریح کو کوفہ کا قاضی مقرر کر کے بھیج دیا۔ اور یہ پہلا دن تھا جب قاضی شریح کو امیر المومنین نے پہچانا (الجامع عبدالرزاق، ابن سعد