37844-"مسند شريح القاضي" عن علي بن عبد الله بن معاوية بن ميسرة بن شريح القاضي حدثنا أبي عن أبيه عن معاوية عن شريح قال: جاء شريح إلى النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال: يا رسول الله! إن لي أهل بيت ذوي عدد باليمن، فقال له: "جيء بهم"، فجاء بهم والنبي صلى الله عليه وسلم قد قبض."كر"
٣٧٨٤٤۔۔۔ (مسند قاضی شریح) علی بن عبداللہ بن معاویہ بن میسرۃ بن شریح قاضی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں ہمارے والد نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے والد معاویہ سے انھوں نے اپنے دادا قاضی شریح سے نقل کیا ہے۔
قاضی شریح فرماتے ہیں : میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یمن میں میرے کافی گھر والے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو بھی لے آؤ۔ چنانچہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر آئے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات فرماچکے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ قاضی ابوامیہ شریح بن الحارث بن قیس حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھے، لیکن آپ سے کوئی حدیث سننے کی نوبت نہیں آئی۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو کوفہ پر قاضی مقرر کیا وہاں ساٹھ سال تک عہدہ قضاء پر متمکن رہے۔ آپ ثقہ تھے اور ٧٨ ھ میں ١٨٠ اسی سال کی عمر میں وفات پائی۔ (تھذیب لابن حجر ٤/ ٣٢٨)