37846- عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر قال: يا آل عمر! إنا كنا نتحدث أن هذا الأمر لا ينقضي حتى يلى رجل من آل عمر! يسير مسيرة عمر ويكون بوجهه علامة، قال: فكان بلال ابن عبد الله بن عمر بوجهه شامة فكانوا يرون أنه هو حتى جاء الله بعمر بن عبد العزيز، وأمه أم عاصم ابنة عاصم بن عمر بن الخطاب."ت في التاريخ، كر".
٣٧٨٤٦۔۔۔ عبداللہ بن دینار حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں، آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : اے آل عمر ! ہم گفتگو کیا کرتے تھے کہ خلافت کا معاملہ ختم نہیں ہوگا جب تک کہ آل عمر میں سے ایسا ایک آدمی خلیفہ نہ بنے جو بعینہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے طرز پر چلے۔ اور اس کے چہرے میں ایک علامت بھی ہوگی۔ چنانچہ بلال بن عبداللہ بن عمر کے چہرے پر ایک تل تھا جس کی وجہ سے لوگ اسی کو وہی مارک شخص سمجھتے تھے حتی کہ اللہ پاک نے عمر بن عبدالعزیز کو کھڑا کردیا اور اس کی ماں ام عاصم بنت عاصم بن عمر بن خطاب تھی۔ (اور یہ آل بیٹی کی طرف سے نکلی جس طرح حضور کی آل بیٹی سے چلی۔ ) (التاریخ الخطیب، ابن عساکر)