37871- "مسند علي" عن علي قال: لما مات أبو طالب أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! إن عمك الشيخ الضال قد مات! فقال: "انطلق فواره ثم لا تحدثن شيئا حتى تأتيني،" فواريته ثم أتيته، فأمرني فاغتسلت، ثم دعا لي بدعوات ما أحب أن لي ما على الأرض من شيء."ط، ش، حم، د1 ن والمروزي في الجنائز وابن الجارود وابن جرير، ع".
٣٧٨٧١۔۔۔ (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب (میرے والد) ابوطالب کی وفات ہوگئی تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کا گمراہ چچاوفات پا گیا ہے۔ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جا اور (گڑھا کھود کر) اس کو چھپاآ، پھر کوئی کام کئے بغیر میرے پاس آجا۔
چنانچہ میں ان کو زمین میں چھپا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غسل کا حکم دیا، چنانچہ میں نے غسل کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے چند دعائیں فرمائیں، جو مجھے ساری دنیا کی دولت سے زیادہ عزیز ہیں۔ (مسند ابن ابی داؤد، ابن ابی شیبہ، ابوداؤد، النسائی، المروزی، فی الجنائز، ابن الجارود، ابن جریر، مسند ابی یعلی)