37873- عن علي قال: لما مات أبو طالب أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: إن عمك الشيخ الضال قد مات، قال: "اذهب فواره ولا تحدث شيئا حتى تأتيني،" ففعلت الذي أمرني ثم أتيته، وعلمني دعوات هي أحب إلي من حمر النعم. "ابن حمدان".
٣٧٨٧٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : آپ کے گمراہ چاچا انتقال کرگئے ہیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اس کو گڑھے میں دبا کر آؤ اور کسی کام میں لگے بغیر سیدھے میرے پاس آؤ۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی تعمیل کی اور واپس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے وہ کلمات سکھائے جو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہیں۔ (ابن حمدان)