37916- "أيضا" "ابن النجار" كتب إلى يوسف بن عبد الله الدمشقي أنبأنا أبو القاسم محمود بن الفرج بن أبي القاسم المقرئ الكرخي أنبأنا أبو حفص عمر بن أبي بكر المقرئ أنبأنا أبو الصفا تامر بن علي أنبأنا منصور بن محمد بن علي الأصبهاني المذكر أنبأنا محمد ابن أحمد بن إبراهيم القاضي ثنا محمد بن أيوب الرازي ثنا القعسي عن سلمة بن وردان عن ثابت البناني عن أنس: قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليلة أسري بي إلى السماء سألت ربي عز وجل فقلت: إلهي وسيدي! اجعل حساب أمتي على يدي لئلا يطلع على عيوبهم أحد غيري، فإذا النداء من العلى: يا أحمد! إنهم عبادي لا أحب أن أطلعك على عيوبهم، فقلت: إلهي وسيدي ومولائي المذنبون من أمتي؟ " فإذا النداء من العلى: يا أحمد! إذا كنت أنا الرحيم وكنت أنت الشفيع فأين المذنبون بيننا! فقلت: حسبي حسبي." محمد ابن علي المذكر قال في المغني: متهم تالف، قلت: وأخلق بهذا الحديث أن يكون من وضعه".
٣٧٩١٦۔۔۔ (ایضاً ۔ ابن النجار) (کتب الی یوسف بن عبداللہ الدمشقی انبانا ابوالقاسم محمود بن الفرج بن ابی القاسم المقری الکرخی
انبانا ابوحفص عمر بن ابی بکر انبانا ابوالصفا تامر بن علی انبانا منصور بن محمد بن علی الاصبھانی المذکر انبانا محمد بن احمد بن ابراھیم القاضی ثنا محمد ایوب الرازی ثناالقعسی عن سلمۃ بن وردان عن ثابت البنانی عن انس (رض)) ۔
حضرت ثابت بنانی (رح) حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس رات مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی میں نے اپنے پروردگار عزوجل سے سوال کیا کہ اے الٰہ ! اے میرے آقا ! میری امت کا حساب میرے ہاتھوں میں دے دے تاکہ ان کے عیوب پر میرے سوا کوئی مطلع نہ ہو۔ تو اوپر سے آواز آئی اے احمد ! وہ میرے بندے ہیں، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں تجھے ان کے عیوب پر مطلع کروں۔ پھر میں نے عرض کیا : اے الہٰ ! اے میرے آقا ! میری امت کے گناہ گاروں کا کیا بنے گا ؟ تو اوپر سے نداء آئی : اے احمد ! جب میں رحیم ہوں اور تو شفاعت کرنے والا تو پھر ہمارے درمیان گناہ گار کہاں رہیں گے ! تب میں نے عرض کیا : بس مجھے یہ کافی ہے، مجھے یہ کافی ہے۔
کلام :۔۔۔ محمد بن علی کے متعلق المغنی میں ہے کہ وہ متہم ہے اور علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے زیادہ رجحان اس بات کا ہے کہ یہ حدیث ان کی موضوعات میں سے ہو۔