37959- "مسند عمر" عن زهرة عن أبي سلمة ومحمد والمهلب وطلحة قالوا: لما أعطى عمر أول عطاء أعطاه ذلك سنة خمس عشرة، فلما دعا صفوان بن أمية وقد رأى ما أخذ أهل بدر ومن بعدهم إلى الفتح فأعطاه في أهل الفتح أقل مما أخذ من كان قبله أبى أن يقبله وقال: يا أمير المؤمنين! لست معترفا لأن يكون أكرم مني أحد ولست آخذ أقل مما أخذ من هو دوني أو من هو مثلي! فقال: إنما أعطيتهم على السابقة والقدمة في الإسلام لا على الأحساب، قال: فنعم إذن، فأخذ وقال: أهل ذلك هم. "سيف بن عمر".
٣٧٩٥٩۔۔۔ (مسند عمر (رض)) زہرۃ، ابوسلمہ اور محمد مہلب اور طلحہ سے روایت کرتے ہیں، یہ حضرات فرماتے ہیں جب حضرت عمر (رض) نے پہلا پہلا وظیفہ تقسیم فرمایا تو یہ سن پندرہ ہجری کا سال تھا۔
چنانچہ جب حضرت عمر (رض) نے صفوان بن امیہ کو وظیفہ دینے کے لیے بلایا۔ صفوان نے پہلے دیکھ لیا تھا کہ جو حضرت عمر (رض) نے اہل بدر کو اور ان کے بعد فتح مکہ تک والوں کو وظائف تقسیم کئے تھے وہ زیادہ تھے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے اہل بدر کو اور ان کے بعد فتح مکہ تک والوں کو وظائف تقسیم کئے تھے وہ زیادہ تھے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے صفوان بن امیہ کو فتح مکہ والوں میں شامل کرکے پہلے والوں سے کم وظیفہ دیا چنانچہ صفوان نے اسی وجہ سے قبول کرنے سے انکار کردیا اور بولے اے امیر المومنین ! میں اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ عزت والا ہے اور اسی وجہ سے میں اپنے سے کم حیثیت یا اپنے مثل لوگوں سے کم وظیفہ بھی قبول نہیں کرسکتا۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے ان کو جو وظائف دئیے ہیں ان کے سلام میں سبقت اور پہل کرنے کی وجہ سے دئیے ہیں نہ کہ حسب ونسب کی وجہ سے۔ تب حضرت صفوان بولے ! ہاں تب ٹھیک ہے۔
پھر ان کو جو دیا جارہا تھا وہ وصول کرلیا اور بولے : وہ لوگ اپنے وظیفوں کے اہل ہیں۔ (سیف بن عمر)