38022- عن سعد بن أبي الغادية عن أبيه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم في جماعة من أصحابه جالسا إذ مرت به جنازة فقال: "ممن الجنازة؟ " فقالوا: من مزينة، فما جلس مليا حتى مرت به الثانية؟ فقال "ممن الثانية" فقالوا: من مزينة، فما جلس مليا حتى مرت به الثالثة فقال: "ممن الجنازة؟ " فقالوا: من مزينة، فقال "سترى مزينة ما هاجرت فتيان قط كرموا على الله إلا كان أسرعهم فناء! سترى مزينة لا يدرك الدجال منها أحد". "كر وقال: غريب جدا، لم أكتبه إلا من هذا الوجه".
٣٨٠٢٢۔۔۔ سعد بن ابی الغاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ (رض) کی ایک جماعت میں بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ گزرا، فرمایا : کس (قبیلہ) کا جنازہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : مزینہ کا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی تو دوسرا جنازہ گزرا، فرمایا : یہ کس کا جنازہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : مزینہ کا پھر تھوڑی دیر تشریف فرما ہوئے کہ تیسرا جنازہ گزرا، فرمایا : یہ کس کا جنازہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : مزینہ کا، فرمایا : عنقریب قبیلہ مزینہ دیکھ لے گا کہ اس کے جن نوجوانوں نے ہجرت کی جو اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت یافتہ تھے وہ جلد ختم ہوجائیں گے، مزینہ دیکھ لے گا کہ دجال کا زمانہ ان میں سے کوئی بھی نہیں پائے گا۔ (ابن عساکر وقال غریب جدا، لم اکتبہ الامن ھذا الوجہ)
مضر جن کا تعلق بنی عدنان سے تھا ان کے دو بیٹوں تھے، قیس اور الیاس، ان میں سے الیاس کی اولاد، خندف کے نام سے بھی مشہور تھی جو الیاس کی بیوی کا نام تھا، الیاس کی اولاد میں، طابخہ، مدرکہ اور قمعہ تھے طابخہ کی اولاد میں مزینہ، ضبہ اور تمیم تھے۔ (جزیرہ عرب عامر تقی ندوی)
” جہینۃ “
سبا کے دوبیٹے تھے کہلان اور حمیر اور حمیر کے چار بیٹے تھے شعبان، زید الجمہور، مسکاسک اور قضاعہ (تبابعہ) پھر قضاعہ کے چھ بیٹے تھے، (١) مہرہ، (٢) جرم، (٣) جہینہ، (٤) تنوخ، (٥) عذرہ، اور نہد۔ (حوالہ بالاعامر تقی ندوی)