38031- "مسند أبي هريرة" ذكرت القبائل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله! ما تقول في هوزان؟ "زهرة تينع"، قالوا: فما تقول في بني عامر؟ قال: "جمل أزهر يأكل من أطراف الشجر"، قالوا: فما تقول في تميم؟ قال: "يأبى الله لتميم إلا خيرا، ثبت الأقدام، عظام الهام، رجح الأحلام، هضبة حمراء، لا يضرها من ناواها، أشد الناس على الدجال آخر الزمان". "الرامهرمزي في الأمثال، ورجاله ثقات".
٣٨٠٣١۔۔۔ (مسند ابوہریرہ ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قبائل کا ذکر ہوا، لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ھوازن کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ فرمایا : پھول ہے جو انتہائی سرخ ہوتا ہے، لوگوں نے عرض کیا : بنی عامر کے بارے کیا فرماتے ہیں ؟ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمیم سے بھلائی کا ارادہ کیا ہے، وہ ثابت قدم، بڑی کھوپڑیوں والے عقل سے بھرے ہوئے، زمین پر پھیلے ہوئے سرخ پہاڑ کی مانند ہیں۔ لوگوں میں سے جس نے ان کا قصد کیا انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، آخری زمانہ میں دجال کے لیے سب سے سخت ہوں گے۔ (الرامھر مزی فی الامثال ورجالہ ثقات)