38093- "أيضا" عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أن إبراهيم عليه السلام نصب أنصاب الحرم يريه جبريل عليه السلام، ثم لم تحرك حتى كان قصي فجددها، ثم لم تحرك حتى كان رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعث عام الفتح تميم بن أسد الخزاعي فجددها، ثم لم تحرك حتى كان عمر بن الخطاب فبعث أربعة من قريش كانوا يبدون في بواديها فجددوا أنصاب الحرم، منهم مخرمة بن نوفل وأبو هو سعيد بن يربوع المخرومي وحويطب بن عبد العزى وأزهر بن عبد عوف الزهري."الأزرقي".
٣٨٠٩٣۔۔۔ (اسی طرح) زھری عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کرتے ہیں : کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دکھانے کے لیے حرم کے پتھر نصب کئے، پھر کسی نے انھیں حرکت نہیں دی یہاں تک کہ جب قصی کا زمانہ آیا تو انھوں نے ان کی تجدید کی، پھر کسی نے انھیں حرکت نہیں دی یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دور آیا آپ نے فتح مکہ کے سال تمیم بن اسد خزاعی (رض) کو بھیجا، انھوں نے ان پتھروں کی تجدید کی، پھر کسی نے انھیں حرکت نہیں دی یہاں تک جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کا دور آیا تو آپ نے قریش کے چار افراد بھیجے، جو دیہات میں رہتے تھے انھوں نے حرم کے پتھروں کو نئے پتھروں میں تبدیل کرکے نصب کیا، ان میں مخرمہ بن نوفل سعید بن یربوع المخزومی، حویطب بن عبدالعزی اور ازھر بن عبدعوف الزھری شامل ہیں۔ (رواہ الازرقی)