hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 38107

.

كنز العمال

38107
Kanz al-Ummal
38095- "أيضا" عن عبيد بن عمير أن عمر بن الخطاب رأى رجلا يقطع من شجر الحرم ويعلفه بعيرا له فقال: علي بالرجل،فأتي به، فقال: يا عبد الله! أما علمت أن مكة حرام لا يعتضد عضاها ولا ينفر صيدها ولا تحل لقطتها إلا لمعرف؟ فقال: يا أمير المؤمنين! والله ما حملني ذلك إلا أن أعلف نضوا لي فخشيت أن لا يبلغني وما معي من زاد ولا نفقة، فرق له بعد ما هم به وأمر له ببعير من إبل الصدقة موقرا طحينا فأعطاه إياه وقال: لا تعودن تقطع من شجر الحرم شيئا."في المداواة".
٣٨٠٩٥۔۔۔ (اسی طرح) عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو دیکھا جو حرم کا درخت کاٹ کر اپنے اونٹ کو کھلا رہا تھا، آپ نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لے آؤ ! چنانچہ اسے لایا گیا، فرمایا : اللہ کے بندے ! کیا تجھے علم نہیں کہ مکہ حرام ہے نہ اس کا درخت کاٹا جائے اور نہ اس کے شکار کو بدکایا جائے، اور نہ اس کا لقطہ اٹھایا جائے ہاں جو اس کی تشہیر کرے ؟ وہ کہنے لگا : امیر المومنین ! مجھے اس کام پر صرف اس کمزور اونٹ نے برانگیختہ کیا ہے جسے میں چارکھلارہا ہوں مجھے خدشہ تھا کہ یہ مجھے منزل تک نہیں پہنچائے گا، میرے پاس نہ توشہ ہے اور نہ خرچ، آپ کا دل نرم پڑگیا باوجودیکہ آپ نے اسے سزادینے کا ارادہ کرلیا تھا پھر آپ نے اس کے لیے صدقہ کے ایک اونٹ کا حکم دیا جو آٹے سے لدا ہوا تھا، وہ اسے عطا کردیا، اور فرمایا : پھر ہرگز حرم کا کوئی درخت کاٹنے کے لیے نہ لوٹنا ! (فی المداراۃ)