38097- عن عمرو بن عبد الرحمن بن عوف عن رجال من الأنصار من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم يوم الفتح والنبي صلى الله عليه وسلم في مجلس من المقام فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا نبي الله! إني نذرت إن فتح الله للنبي صلى الله عليه وسلم وللمؤمنين مكة لأصلين في بيت المقدس وإني وجدت رجلا من أهل الشام ههنا في قريش خفيرا مقبلا معي ومدبرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ههنا فصل،" ثم قال الرابعة مقالته فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "فاذهب فصل فيه، فوالذي بعث محمدا بالحق! لو صليت ههنا لقضي ذلك عنك صلاة في بيت المقدس". "عب، وقال ابن جريج: أخبرت أن ذلك الرجل سويد ابن سويد".
٣٨٠٩٧۔۔۔ عمروبن عبدالرحمن بن عوف اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے انصار کے لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فتح مکہ کے دن آیا اور آپ مقام (ابراہیم) میں بیٹھے تھے اس نے آپ کو سلام کیا اور کہنے لگا : اللہ کے نبی ! میں نے نذر مانی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کے لیے مکہ فتح کردیا تو میں ضرور بیت المقدس میں نماز پڑھوں گا، اور یہاں قریش میں ایک شخص جو شام کا رہنے والا ہے مجھے ملا ہے جو آتے جاتے میرا حافظ ہوگا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، یہیں نماز پڑھ لو، پھر اس نے چوتھی مرتبہ اپنی بات دہرائی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اس میں نماز پڑھو، اس ذات کی قسم ! جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا ہے اگر تم نے یہاں نماز پڑھ لی تو تمہاری بیت المقدس میں پڑھی جانے والی نماز کے عوض ادا ہوجائے گی۔ (عبدالرزاق وقال ابن جریج، اخبرت ان ذلک الرجل سوید بن سوید)