38110- "مسند عمر" عن ابن المعزى قال: كنا عند ابن عيينة فجاء رجل فقال: يا أبا محمد! ألستم تزعمون أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "ماء زمزم لما شرب له"، قال: بلى، قال: فإني قد شربته لتحدثني بمائتي حديث، قال: اقعد، فحدثه بها، قال: وسمعت ابن عيينة يقول: قال عمر بن الخطاب: اللهم! إني أشربه لظمأ يوم القيامة."كر".
٣٨١١٠۔۔۔ (مسند عمر) ابن المعزی سے روایت ہے فرمایا : ہم لوگ ابن عینیہ کے پاس تھے کہ ایک شخص آکر کہنے لگا : ابومحمد ! کیا آپ لوگ یہ یقین نہیں کرتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ آب زمزم ہر بیماری کے لیے شفا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : کیوں نہیں، تو وہ کہنے لگا : میں نے اسے پیا ہے تاکہ آپ مجھے دو سو احادیث سنائیں، انھوں نے فرمایا : بیٹھو ! پھر اسے دو سو احادیث سنائیں، (ابن المعزی) فرماتے ہیں : میں نے ابن عینیہ کو فرماتے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اے اللہ ! میں اسے قیامت کی پیاس کے لیے پیتا ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)