38169 * (مسند الارقم) * عن عثمان بن الارقم عن الارقم أنه تجهز يريد بيت المقدس ، فلما فرغ من جهازه جاء النبي صلى الله عليه وسلم يودعه فقال : ما يخرجك حاجة أو تجارة ؟ قال : لا والله يا رسول الله بأبي أنت وأمي ! ولكني أردت الصلاة في بيت المقدس ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام.
فجلس ولم يخرج (حم والبارودي وابن قانع ، طب وأبو نعيم ، ك ، ص).
٣٨١٦٩۔۔۔ (مسند الارقم ) عثمان بن ارقم حضرت ارقم (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے بیت المقدس جانے کا سامان تیار کیا، جب وہ اپنی تیاری سے فارغ ہوئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الوداع کہنے آئے، آپ نے فرمایا : کسی کام یا تجارت کی غرض سے جارہے ہو ؟
عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم ! یہ ارادہ نہیں ہے، البتہ بیت المقدس میں نماز ادا کرنے کا ارادہ ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری اس مسجد میں ایک نماز اس کے علاوہ کی مسجدوں میں ہزار نمازوں سے بہتر ہے ہاں جو نماز مسجد حرام میں پڑھی جائے۔ چنانچہ وہ بیٹھ گئے اور نہیں نکلے۔ (مسند احمد والباوردی، ابن قائع، طبرانی فی الکبیر، ابونعیم، حاکم، سعید بن منصور)