38188- عن حمزة بن عبد كلال قال: سار عمر رضي الله عنه إلى الشام بعد مسيره الأول كان إليها، حتى إذا شارفها بلغه أن الطاعون فاش فيها، فقال له أصحابه: ارجع ولا تقتحم عليها، فلو نزلتها وهو بها لم نر لك الشخوص عنها، فانصرف راجعا إلى المدينة، فعرس من ليلته تلك وأنا أقرب القوم منه، فلما انبعث انبعثت معه في أثره فسمعته يقول: ردوني عن الشام بعد أن شارفت عليه لأن الطاعون فيها، وما منصرفي عنه بمؤخر أجلي، وما كان قدومي بمعجل عن أجلي، ألا! ولو قدمت المدينة ففرغت من حاجات لا بد لي منها لقد سرت حتى أدخل الشام ثم أنزل حمص! فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ليبعثن الله منها يوم القيامة سبعين ألفا لا حساب عليهم ولا عذاب عليهم، مبعثهم فيما بين الزيتون وحائطها في البرث الأحمر منها". "حم والشاشي، طب، ك، خط في تلخيص المتشابه، كر، قال الذهبي: منكر جدا، وأورده أيضا ابن الجوزي في الواهيات وقال: لا يصح فيه أبو بكر بن سليمان بن عبد الله العدوي متروك".
٣٨١٨٨۔۔۔ حمزہ بن عبد کلال سے روایت ہے فرمایا، حضرت عمر (رض)، شام، اپنے پہلے سفر کے بعد روانہ ہوئے، جب آپ اس کے قریب پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ اس میں طاعون پھیلا ہوا ہے، آپ سے آپ کے ساتھیوں نے کہا : واپس لوٹ جائیں اور اس میں نہ گھسیں ! طاعون کے ہوتے ہوئے اگر آپ وہاں چلے گئے تو ہمیں نظر نہیں آتا کہ آپ وہاں سے نہ آسکیں گے۔ چنانچہ آپ مدینہ پلٹ آئے، آپ نے یہ رات گزاری میں لوگوں میں سے آپ کے سب سے زیادہ نزدیک تھا، آپ جب اٹھے تو میں بھی آپ کے پیچھے اٹھ کھڑا ہوا، میں نے سنا آپ فرما رہے تھے : اگرچہ میں شام کے قریب پہنچ چکا (پھر بھی ) مجھے واپس لے چلو کیونکہ اس میں طاعون ہے، میرا یہاں سے لوٹ جانا میری موت کو موخر نہیں کرے گا، اور نہ میرا آنا میری موت کو جلد لاسکتا ہے۔
سنو ! اگر مدینہ آجاتا اور اپنی ضروری حاجات سے فارغ ہوجاتا، پھر میں چل پڑتا یہاں تک کہ شام میں داخل ہوجاتا، پھر حمص میں ٹھہرتا، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز شام سے ستر ہزار لوگ ایسے اٹھائے گا کہ نہ ان کا حساب ہوگا اور نہ انھیں عذاب ہوگا، ان کے اٹھائے جانے کی جگہ زیتون کے درختوں کے درمیان ہے اور اس کی دیوار اس کی سرخ ہموار زمین میں ہے۔ (مسند احمد، والشاشی، طبرانی فی الکبیر حاکم، خطیب فی تلخیص المتشابہ، ابن عساکر، قال الذھبی منکر جدا، واوردہ ایضاً ، ابن الجوزی فی الواھیات وقال لایصح فیہ ابوبکر بن سلیمان بن عبداللہ العدوی متروک
کلام :۔۔۔ المتناہیۃ ٤٩٣۔