hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 38238

.

كنز العمال

38238
Kanz al-Ummal
38226- عن عائشة قالت: هب النبي صلى الله عليه وسلم من نومه مذعورا وهو يرجع، فقلت: مالك بأبي وأمي؟ قال: "سل عمود الإسلام من تحت رأسي فأوحشني، ثم رميت ببصري فإذا هو قد غرز في وسط الشام فقيل لي: يا محمد! إن الله قد اختار لك الشام ولعباده فجعلها لكم عزا ومحشرا ومنعة وذكرا، من أراد الله به خيرا أسكنه الشام وأعطاه نصيبا منها، ومن أراد به شرا أخرج سهما من كنانته وهي معلقة في وسط الشام فرماه بها فلم يسلم في دنيا ولا آخرة". "كر، وفيه الحكم بن عبد الله متروك".
٣٨٢٢٦۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیند سے گھبرا کر بیدار ہوئے آپ پر کپکپی طاری تھی، میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کو کیا ہوا ہے ؟ فرمایا : میرے تکیہ کے نیچے سے اسلام کا ستون کھینچ لیا گیا جس سے مجھے وحشت ہوئی، پھر میں نے اپنی نگاہ دوڑائی توا سے شام کے وسط میں گاڑ دیا گیا، مجھ سے کہا گیا : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اور اپنے بندوں کے لیے شام کو پسند کیا ہے اس نے اسے تمہارے لیے عزت، حشر، مضبوطی اور یاددھانی کا باعث بنایا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ بھلائی چاہے گا اسے شام میں ٹھہرائے گا اور اسے اس میں سے حصہ دے گا اور جس سے برائی کو دوچار کرے گا وہ اپنے ترکش سے تیر نکال لے گا۔ اور وہ شام کے درمیان لٹکا ہوا ہے اسے تیر مارے تو وہ دنیا و آخرت میں سلامت نہیں رہے گا۔ (ابن عساکر وفیہ الحکم بن عبداللہ متروک)