38267- عن الشعبي أن عمر بن الخطاب كتب إلى سعد بن أبي وقاص أن اتخذ للمسلمين دار هجرة ومنزل جهاد، فبعث سعد رجلا من الأنصار يقال له الحارث بن سلمة فارتاد لهم موضع الكوفة اليوم فنزلها سعد بالناس فخط مسجدها وخط فيها الخطط، قال الشعبي: وكان ظهر الكوفة ينبت الخزامي والشبح والأقحوان وشقائق النعمان، وكانت العرب تسميه في الجاهلية خد العذارى، فارتادوا فكتبوا إلى عمر بن الخطاب، فكتب أن انزلوه، فتحول الناس إلى الكوفة."ش".
٣٨٢٦٧۔۔۔ شعبی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کی طرف خط لکھا کہ مسلمانوں کے لیے ایک دار ہجرت اور جہاد کی منزل فرودگاہ بناؤ چنانچہ حضرت سعد نے انصار کے ایک شخص جن کا نام حارث بن سلمہ تھا روانہ کیا انھوں نے ان لوگوں کے لیے اس دن کوفہ کی جگہ کا انتخاب کیا، حضرت سعد وہاں اترے، مسجد کا نقشہ کھینچا اور دیگر جگہوں کے نقشے کھینچے۔ شعبی فرماتے ہیں : کہ کوفہ کے درمیان خزامی، شج، بابونہ اور گل لالہ اگتا تھا، اور عرب جاہلیت میں اسے ” خدا لعذاری “۔ (دوشیزہ کے رخسار)
کہتے تھے، وہ لوگ چلے پھرے پھر انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو لکھا، آپ نے انھیں جواباًلکھا : اسی جگہ پڑاؤ ڈالو ! چنانچہ لوگ وہاں سے منتقل ہوگئے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)