hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 38305

.

كنز العمال

38305
Kanz al-Ummal
38293 عن علي قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة النصف من شعبان قام فصلى أربع عشر ركعة ، ثم جلس بعد الفراغ فقرأ بأم القرآن أربع عشرة مرة و " قل هو الله أحد " أربع عشر مرة و " قل أعوذ برب الفلق " أربع عشرة مرة و " قل أعوذ برب الناس " أربع عشرة مرة وآية الكرسي مرة و " لقد جاءكم رسول من أنفسكم " الآية ، فلما فرغ من صلاته سألته عما رأيت من صنيعه ، قال : من صنع مثل الذي رأيت كان له كعشرين حجة مبرورة وصيام عشرين سنة مقبولة ، فان أصبح في ذلك اليوم صائما كان له كصيام سنتين : سنة ماضية وسنة مستقبلة (هب وقال : منكر وفي رواته مجهولون ، قال : ويشبه أن يكون هذا الحديث موضوعا ، وأخرجه الجوزقاني في الاباطيل وابن الجوزي في الموضوعات وقال : موضوع وإسناده مظلم).
٣٨٢٩٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پندرھویں شعبان کی رات دیکھا آپ نے قیام کیا اور بارہ رکعتیں ادا فرمائیں، پھر نماز سے فراغت کے بعد بیٹھے اور چودہ مرتبہ سورة فاتحہ پڑھی ، چودہ بارقل ھواللہ اھد پڑھا، چودہ مرتبہ، قل اعوذبرب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھی، ایک مرتبہ آیت الکرسی اور لقد جاء کم رسول من انفسکم والی آیت پڑھی، آپ جب نماز ودعا سے فارغ ہوئے میں نے آپ سے اس کے بارے میں پوچھا ، آپ نے فرمایا : جو کچھ تم نے (مجھے کرتے دیکھا) جس نے اس طرح کیا اس کے لیے بیس مقبول حج اور بیس سال کے مقبول روزے رکھنے کا ثواب ہے اور اگر اس روز اس نے روزے کی حالت میں صبح کی تو اس کے لیے دو سال کے روزے رکھنے کا ثواب ہے ایک گزشتہ اور ایک آئندہ سال کا۔ (بیھقی وقال منکر وفی روایۃ مجھولون، قال ویشبہ ان یکون ھذا الحدیث موضوعا واخرجہ الجوز قانی فی الا باطیل وابن الجوزی فی الموضوعات وقال : موضوع واسنادہ مظلم)
کلام :۔۔۔ التنزیہ ج ٢ ص ٩٣۔ ٩٤ اللآلی ج ٢ ص ٦٠ الموضوعات ج ٢ ص ١٣٠) ۔