38325- "مسند عمر" عن الشعبي قال: كتب قيصر إلى عمر بن الخطاب: إن رسلي أتتني من قبلكم فزعمت أن قبلكم شجرة ليست بخليقة لشيء من الخير، تخرج مثل آذان الحمير، ثم تتشقق عن مثل اللؤلؤ الأبيض، ثم تصير مثل زمرد الأخضر، ثم تصير مثل الياقوت، ثم تينع وتنضج فتكون كأطيب فالوذج أكل، ثم تيبس فتكون عصمة للمقيم وزادا للمسافر، فإن لم يكن رسلي صدقتني فلا أرى هذه الشجرة إلا من شجرة الجنة. فكتب إليه عمر: إن رسلك قد صدقتك، هذه الشجرة عندنا هي الشجرة التي أنبتها الله على مريم حين نفست بعيسى."كر والسلفي في انتخاب حديث الفراء".
٣٨٣٢٥۔۔۔ (مسند عمر) شعبی سے روایت ہے فرمایا : قیصر روم نے حضرت عمر (رض) کو لکھا : کہ میرے قاصد آپ کے ہاں سے ہو کر آتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ آپ لوگوں کی طرف ایک درخت ہے جس میں کوئی خیر نہیں، وہ درخت گدھے کے کانوں کی طرح ظاہر ہوتا ہے پھر وہ سفید موتی کی طرح ہوجاتا ہے پھر وہ سبز زمرد جیسا ہوجاتا ہے اس کے بعد یاقوت کی مانند ہوجاتا ہے، پھر اس پہ پھل لگتا ہے اور پک جاتا ہے تو اچھے فالودے کی طرح ہوجاتا ہے جسے کھایا جائے، اس کے بعد وہ خشک ہو کر مقیم کی حفاظت (جان) اور مسافر کا توشہ بن جاتا ہے، اگر میرے قاصدوں نے مجھے سچ نہیں کہا تو میرے خیال میں وہ جنت کا درخت ہے۔
آپ نے اسے جواب تحریر کیا : تمہارے قاصدوں نے تم سے سچ کہا ہے ہمارے یہ درخت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے لیے اس وقت اگایا تھا جب انھیں عیسیٰ (علیہ السلام) کا حمل تھا۔ (ابن عساکر والسلفی فی انتخاب حدیث القراء)