38451- "ستصالحون الروم صلحا آمنا فتغزون أنتم وهم عدوا من ورائهم فتسلمون وتغنمون، ثم تنزلون بمرج ذي تلول، فيقوم رجل من الروم فيرفع الصليب ويقول: غلب الصليب! فيقوم إليه رجل من المسلمين فيقتله، فيغدر القوم ويكون الملاحم، فيجتمعون لكم فيأتونكم في ثمانين غاية مع كل غاية عشرة آلاف." حم، د، هـ، حب - عن ذي مخمر"
٣٨٤٥١۔۔۔ تم لوگ رومیوں سے امن کی صلح کروگے پھر تم اور وہ دونوں ان کے دشمن کا مقابلہ کروگے، تم سلامت رہو گے اور غنیمت حاصل کرو گے، پھر تم ایسی شاداب جگہ میں آکر اتروگے جو ٹیلوں والی ہوگی۔ ایک رومی اٹھے گا اور صلیب بلند کرکے کہے گا : صلیب غالب ایک مسلمان اٹھ کر اسے قتل کردے گا یوں وہ قوم بدعہدی کرے گی پھر لڑائیاں ہوں گی، اس کے بعد وہ جمع ہو کر اسی جھنڈوں تلے تمہارے مقابلہ میں آئیں گے ہر جھنڈے تلے دس ہزار ہوں گے۔ (مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ ابن حبان عن دمخمر)