38550- "لتنزلن طائفة من أمتي أرضا يقال لها البصرة يكثر بها عددهم ويكثر بها نخلهم ثم يجيء بنو قنطوراء عراض الوجوه صغار العيون حتى ينزلوا على جسر لهم يقال لها دجلة، فيتفرق المسلمون ثلاث فرق: أما فرقة فتأخذ بأذناب الإبل وتلحق بالبادية فتهلك، وأما فرقة فتأخذ على نفسها فكفرت فهذه وتلك سواء، وأما فرقة فيجعلون عيالهم خلف ظهورهم ويقاتلون، فقتلاهم شهداء ويفتح الله على بقيتها." حم في البعث - عن أبي بكرة، وسنده لين".
٣٨٥٥٠۔۔۔ میری امت کی ایک جماعت بصرہ نامی زمین میں ضرور اترے گی وہاں ان کی تعداد اور کھجوروں کے درخت بکثرت ہوں گے، پھر بنی قنطورا چوڑے چہرے والے آئیں گے، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، یہاں تک کہ وہ ایک پل پر پڑاؤ کریں گے جسے دجلہ کہا جائے گا، اس کے بعد مسلمانوں کے تین گروہ بن جائیں گے ایک گروہ اونٹوں کو سنبھالے جنگلوں کا رخ کرلے گا اور ہیں ہلاک ہوجائے گا، ایک گروہ اپنی جان بچائے گا ان کا اور ان کا کفر برابر ہے، ایک گروہ اپنے اہل و عیال کو پیچھے چھوڑ کر جنگ کرے گا تو ان کے مقتولین شہداء ہوں گے اور باقیوں کو اللہ تعالیٰ فتح دے گا۔ (مسند احمد فی البعث، عن ابی بکرۃ وسندہ لبن)