hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 386

.

كنز العمال

386
Kanz al-Ummal
386 – "من ارتد عن دينه فاقتلوه". (طب عن عصمة بن مالك) .
٣٨٦۔۔ جو شخص اپنے دین سے برگشتہ ہوگیا اس کو قتل کرڈالو۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت عصمہ بن مالک۔
مرتد وہ شخص ہے جو اسلام کے دائرہ سے نکل کر کفر کے ظلمت کدہ میں چلا جائے ۔ احناف کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر اسلام کی دعوت دوبارہ پیش کی جائے اور اس کے اشکلالات جن کی وجہ سے وہ اسلام سے منحرف ہوا ہے ان کو دور کیا جائے اگرچہ واجب نہیں ہے کیونکہ اس کو اسلام کی دعوت پہلے پہنچ چکی ہے۔ لیکن مستحب ضرور ہے، اور یہ بھی مستحب ہے کہ اس کو تین یوم کے لیے قید کردیا جائے تاکہ اس کو کچھ مہلت مل جائے اور بعض اہل علم کے نزدیک مہلت مرتد کی طلب پر منحصر ہے ورنہ مہلت کی ضرورت نہیں۔ جبکہ امام شافعی (رح) کے نزدیک مہلت دیناواجب ہے انجام کار اگر وہ راہ راست پر آجائے تو یہی اسلام کا مطلوب ہے ورنہ اس کو قتل کردیا جائے۔
مرتد عورت کا حکم اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قتل نہ کیا جائے بلکہ جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائے اس کو قید میں ڈالے رکھاجائے اور ہر تیسرے دین اس کو بطور تنبیہ مارا جائے تاکہ وہ اپنے ارتداد سے توبہ کرکے دائرہ اسلام میں آجائے لیکن اگر کوئی شخص کسی مرتد عورت کو قتل کردے توقاتل پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔