38645- "أول الآيات الدجال ونزول عيسى ونار تخرج من قعر عدن أبين، تسوق الناس إلى المحشر، تقيل معهم إذا قالوا، والدخان والدابة ويأجوج ومأجوج، قيل: يا رسول الله! وما يأجوج ومأجوج، قال: يأجوج ومأجوج أمم، كل أمة أربعمائة ألف أمة، لا يموت الرجل منهم حتى يرى ألف عين تطرف بين يديه من صلبه، وهم ولد آدم، فيسيرون إلى خراب الدنيا وتكون مقدمتهم بالشام وساقتهم بالعراق، فيمرون بأنهار الدنيا فيشربون الفرات ودجلة وبحيرة طبرية حتى يأتوا بيت المقدس فيقولون: قد قتلنا أهل الدنيا فقاتلوا من في السماء، فيرمون بالنشاب إلى السماء، فيرجع نشابهم مخضبة بالدم، فيقولون: قد قتلنا من في السماء، وعيسى والمسلمون بجبل طور سينين، فيوحي الله إلى عيسى أن احرز عبادي وما يلي أيلة، ثم إن عيسى يرفع يديه إلى السماء ويؤمن المسلمون، فيبعث الله عليهم دابة يقال لها: النغف، تدخل في مناخرهم، فيصبحون موتى من حاق الشام إلى حاق العراق حتى تنتن الأرض من جيفهم، ويأمر السماء فتمطر كأفواه القرب، فتغسل الأرض من جيفهم ونتنهم، فعند ذلك طلوع الشمس من مغربها." ابن جرير، عن حذيفة بن اليمان".
٣٨٦٤٥۔۔۔ (قیامت کی) سب سے پہلی علامت دجال ہے، عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول عدن ابین کے نشیبی علاقے سے ایک آگ نکلے گی، جو لوگوں کو محشر کی طرف ہنکائے گی جہاں وہ لوگ قیلولہ کریں گے وہ بھی قیلولہ کرے گی، دھواں، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج، کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یاجوج ماجوج کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یاجوج ماجوج بہت سی امتیں ہیں، ہر امت ایک لاکھ چارسوامتیں ہیں ان کا کوئی آدمی اس وقت تک نہیں مرتا یہاں تک کہ اپنی اولاد میں ہزار زندہ دیکھے، یہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ وہ دنیا کی خرابی کے لیے چلیں گے ان کا اگلا آدمی شام میں اور پچھلا شخص عراق میں ہوگا، پس وہ چلیں گے کہ یہ دنیا ہے اس کے بعد وہ فرات، دجلہ بحیریہ پی ڈالیں گے یہاں تک کہ بیت المقدس کے پاس پہنچ کر کہیں گے : ہم نے دنیا والوں کو قتل کردیا اب آسمان والوں کو مارو ! پھر وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے ان کے تیر خون سے آلود ہو کرلوٹیں گے تو وہ کہیں گے : ہم نے آسمان والوں کو بھی مارڈالا، جب کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور مسلمان طور سینا کے پہاڑ پر ہوں گے، اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجیں گے : کہ میرے بندوں کو اور ایلہ کے قریب والوں کو جمع کرلو، اس کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان کی طرف اپنے ہاتھ اٹھائیں گے اور مسلمان آمین کہیں گے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کی طرف ایک کیڑا بھیجے گا جسے نغف کہا جاتا ہے جو ان کے نتھنوں میں داخل ہوگا تو وہ شام کے کنارے سے لے کر عراق کے کنارے تک مردہ ہوجائیں گے ان کے مردار جسموں سے زمین بدبودار ہوجائے گی، (اللہ تعالیٰ ) آسمان کو برسنے کا حکم دے گا جیسے مشکیزوں کا منہ کھلتا ہے یوں زمین ان کے مرداروں اور بدبو سے دھل جائے گی، اس وقت سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔ (ابن جریر عن حذیفہ بن الیمان)