38653- "أبشروا بالمهدي رجل من قريش من عترتي، يخرج في اختلاف من الناس زلزال، فيملأ الأرض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا، ويرضى عنه ساكن السماء وساكن الأرض، ويقسم المال صحاحا بالسوية، ويملأ قلوب أمة محمد صلى الله عليه وسلم غنى ويسعهم عدله حتى أنه يأمر مناديا فينادي: من له حاجة إلي؟ فما يأتيه أحد إلا رجل واحد يأتيه فيسأله، فيقول: ائت السادن حتى يعطيك، فيأتيه فيقول: أنا رسول المهدي إليك لتعطيني مالا، فيقول: احث، فيحثي ولا يستطيع أن يحمله، فيلقي حتى يكون قدر ما يستطيع أن يحمله، فيخرج به فيندم فيقول: أنا كنت أجشع أمة محمد نفسا، كلهم دعي إلى هذا المال فتركه غيري، فيرد عليه فيقول: إنا لا نقبل شيئا أعطيناه، فيلبث في ذلك ستا أو سبعا أو ثمانيا أو تسع سنين ولا خير في الحياة بعده." حم والبارودي - عن أبي سعيد".
٣٨٦٥٣۔۔۔ تمہیں مہدی کی خوشخبری ہو جو قریش میں میرے خاندان کا آدمی ہوگا وہ زلزلوں اور لوگوں کے اختلاف کے دور میں نکلے گا وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا، جیسے وہ ظلم وستم سے بھری ہوگی آسمان و زمین کے رہنے والے اس سے خوش ہوں گے، مال کو صحیح برابر حصوں میں تقسیم کرے گا، اور امت محمد علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کے دلوں کو مسرت سے بھردے گا، اس کا انصاف انھیں کافی ہوگا، یہاں تک کہ ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : جسے کوئی ضرورت ہو وہ میرے پاس آجائے ؟ تو اس کے پاس صرف ایک آدمی آئے گا اس سے سوال کرے گا، پھر وہ کہے گا : دربان کے پاس جاؤ وہ تمہیں عطا کرے گا، چنانچہ وہ اس کے پاس آکر کہے گا : میں مہدی کا قاصد ہوں تاکہ تم مجھے مال دو ، وہ کہے گا : دونوں ہاتھوں سے اٹھاؤ، وہ جھولی بھرے گا لیکن اٹھا نہیں سکے گا، پھر وہ مال نکال دے گا اور اتنا باقی رکھے گا جسے اٹھاسکے، مال لے کر نکلے گا تو اسے ندامت وپشیمانی ہوگی وہ (دل میں) کہے گا : امت محمد میں سے میں ہی (بڑا) بےباک ہوں، سب کو اس مال کی طرف بلایا گیا تو میرے علاوہ سب نے چھوڑ دیا، چنانچہ (اس خیال سے ) وہ دربان کو مال واپس کرے گا، تو وہ کہے گا : ہم جو چیز دے دیتے ہیں واپس نہیں لیتے، پھر وہ (مہدی) اس حال میں چھ، سات، آٹھ یا نوسال رہے گا اس کے بعد زندگی میں کوئی خیر نہیں۔۔ (مسند احمد، والباوردی عن ابی سعید)
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٨، الضعیفۃ ١٥٧٧۔