hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 38757

.

كنز العمال

38757
Kanz al-Ummal
38745- "يخرج الدجال في أمتي فيمكث أربعين، فيبعث الله تعالى عيسى ابن مريم كأنه عروة بن مسعود الثقفي، فيطلبه فيهلكه، ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوة، ثم يرسل الله ريحا باردة من قبل الشام فلا يبقى على وجه الأرض أحد في قلبه مثقال ذرة من الإيمان إلا قبضته حتى لو أن أحدكم دخل في كبد جبل لدخلت عليه حتى تقبضه فيبقى شرار الناس في خفة الطير وإحلام السباع، لا يعرفون معروفا ولا ينكرون منكرا، فيتمثل لهم الشيطان فيقول: ألا تستجيبون؟ فيقولون فما تأمرنا فيأمرهم بعبادة الأوثان، فيعبدونها وهم في ذلك دار رزقهم حسن عيشهم، ثم ينفخ في الصور فلا يسمعه أحد إلا أصغى ليتا ورفع ليتا، وأول من يسمعه رجل يلوط حوض إبله، فيصعق أو يصعق الناس، ثم يرسل الله تعالى مطرا كأنه الطل، فينبت منه أجساد الناس، ثم ينفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون، ثم يقال: يا أيها الناس! هلموا إلى ربكم وقفوهم إنهم مسئولون، ثم يقال: أخرجوا بعث النار، فيقال: من كم؟ فيقال: من ألف تسعمائة وتسعة وتسعين، قال فذاك يوم يجعل الولدان شيبا، وذلك يوم يكشف عن ساق." حم، م عن ابن عمرو".
٣٨٧٤٥۔۔۔ دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس (دن) رہے گا اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) کو بھیجے گا گویا وہ عروہ بن مسعود ثقفی ہیں آپ اسے تلاش کرکے ہلاک کردیں گے پھر لوگ سات سال تک ایسی حالت میں رہیں گے کہ دو آدمیوں میں عداوت نہیں ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی جانب سے ٹھنڈی ہوا بھیجے گا تو زمین پر جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا اس کی روح قبض کرلے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کی کھوہ میں بھی داخل ہوا تو وہ ہوا وہاں بھی پہنچ جائے گی اور اس کی روح قبض کرلے گی، پھر برے لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں کی طرح ہلکے اور درندوں جیسی عقل کے مالک ہوں گے، انھیں نہ کسی نیکی کا علم ہوگا نہ کسی برائی کی خبر، شیطان ان کے سامنے آکر کہے گا : کیا تم میرے بات نہیں مانتے ؟ وہ کہیں گے : تو ہمیں کس بات کا حکم دیتا ہے ؟ تو وہ انھیں بتوں کی پوجا کا حکم دے گا چنانچہ وہ بت پوجنا شروع کردیں گے اسی حال میں ہوں گے ان کا رزق وافر ہوگا اور ان کی زندگی پر مسرت، پھر صور میں پھونک ماری جائے گی، جو بھی اس کی آواز سنے گا گردن کے کنارے سے کان لگائے گا اور سر اٹھائے گا سب سے پہلے جو شخص اس کی آواز سنے گا وہ اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کررہا ہوگا وہ اور لوگ بےہوش ہوجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ شبنم کی مانند ایک بارش بھیجے گا جس سے لوگوں کے جسم اگیں گے، اس کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے پھر کہا جائے گا : لوگو ! اپنے رب کے حضور چلو انھیں کھڑا رکھو ان سے سوال ہوگا، پھر کہا جائے گا : آگ میں بھیجے جانے والے نکالو ! کہا جائے گا وہ کتنے ہیں ؟ کہا جائے گا : ایک ہزار میں سے نوسوننانوے، فرمایا : یہ ایسا دن ہوگا جو بچوں کو بوڑھا بنادے گا اس دن پنڈلی کھولی جائے گی یعنی رب کا ظہور ہوگا۔ (مسند احمد، مسلم عن ابن عمر)