38810- "ما شبه عليكم منه - يعني الدجال - فإن الله تعالى ليس بأعور، يخرج فيكون في الأرض أربعين صباحا، يرد منها كل منهل إلا الكعبة وبيت المقدس والمدينة، الشهر كالجمعة والجمعة كاليوم، ومعه جنة ونار، فناره جنة وجنته نار، معه جبل من خبز ونهر من ماء، يدعو رجلا لا يسلطه الله عليه فيقول: ما تقول في؟ فيقول: أنت عدو الله وأنت الدجال الكذاب، فيدعو بمنشار فيضعه حذو رأسه فيشقه حتى يقع على الأرض ثم يحييه فيقول: ما تقول في؟ فيقول: والله ما كنت أشد بصيرة مني فيك الآن! أنت عدو الله الدجال الذي أخبرنا عنك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فيهوي إليه بسيفه فلا يستطيعه فيقول: أخروه عني." طب - عن ابن عمر".
٣٨٨١٠۔۔۔ دجال کے بارے میں تمہیں اشتباہ نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں وہ نکلے گا اور زمین میں چالیس دن رہے گا کعبہ، بیت المقدس اور مدینہ کے علاوہ ہر جگہ جائے گا۔ مہینہ جمعہ کی طرح، جمعہ دن جیسے ہوگا اور اس کے ساتھ جنت و دوزخ ہوگا اس کی جنت، دوزخ ہے اور دوزخ جنت ہے، اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی۔ وہ ایک شخص کو بلائے گا جس پر اللہ تعالیٰ اسے مسلط نہیں کرے گا، کہے گا : تو میرے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ وہ کہے گا : تو اللہ کا دشمن اور جھوٹا دجال ہے، وہ آرا منگوائے گا اور اسے اس کے سر کے برابر رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کردے گا، وہ زمین پر گرپڑے گا، پھر اسے زندہ کرے گا، کہے گا : تو میرے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ وہ کہے گا : اللہ کی قسم ! مجھے تیرے بارے میں پہلے زیادہ بصیرت نہ تھی، تو اللہ کا دشمن دجال ہے جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبردی تھی چنانچہ دجال اپنی تلوار لے کر اس کی طرف بڑھے گا لیکن کچھ کر نہ سکے گا توک ہے گا : اسے مجھ سے دورکردو۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابن عمر)