38833- "يوم الخلاص وما يوم الخلاص! يوم الخلاص وما يوم الخلاص! يوم الخلاص وما يوم الخلاص! ثلاثا، فقيل له: وما يوم الخلاص؟ قال يجيء الدجال فيصعد أحد فيطلع فينظر إلى المدينة ويقول لأصحابه: ألا ترون إلى هذا القصر الأبيض؟ هذا مسجد أحمد، ثم يأتي المدينة فيجد بكل نقب من أنقابها ملكا مصلتا، فيأتي سبخة الجرف فيضرب رواقه، ثم ترجف المدينة ثلاث رجفات، فلا يبقى منافق ولا منافقة ولا فاسق ولا فاسقة إلا خرج إليه، فتخلص المدينة فذلك يوم الخلاص." حم، ك - عن محجن ابن الأدرع".
٣٨٨٣٣۔۔۔ چھٹکارے کا دن، کیا چھٹکارے کا دن ! چھٹکارے کا دن، کیا چھٹکارے کا دن ! کیا چھٹکارے کا دن (تین بار فرمایا) کسی نے عرض کیا : چھٹکارے کا دن کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : دجال آئے گا اور احد پر چڑھے گا وہاں سے جھانک کر مدینہ کی طرف دیکھے گا اور اپنے ساتھیوں سے کہے گا : کیا تمہیں یہ سفید محل نظر آرہا ہے ؟ یہ احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد ہے پھر وہ مدینہ آئے گا تو اس کے درے پر تلوار سونتے ایک فرشتہ پائے گا، پھر وہ دلدلی زمین کے پاس آکر خیمہ زن ہوگا، تو مدینہ میں تین بار زلزلہ آئے گا تو مدینہ میں کوئی منافق مردو عورت اور کوئی فاسق مرد وعورت نہیں رہے گی سب اس کی طرف چلے جائیں گے تو چھٹکارا پالے گا یہ چھٹکارے کا دن ہے۔ (مسند احمد، حاکم عن محجن ابن الادرع)