38929- "يا أيها الناس! إنكم محشورون إلى الله تعالى حفاة عراة غرلا، {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ} ألا! وإن أول الخلائق يكسى يوم القيامة إبراهيم، ألا! وإنه يجاء برجال من أمتي فيؤخذ بهم ذات الشمال فأقول: يا رب! أصيحابي أصيحابي! فقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك، فأقول كما قال العبد الصالح {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ} فيقال: إن هؤلاء لم يزالوا مرتدين على أعقابهم منذ فارقتهم." حم، ق، ت، ن - عن ابن عباس".
٣٨٩٢٩۔۔۔ لوگو ! تمہیں اللہ کے پاس ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بےختنہ جمع ہونا ہے ” جیسے ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا (اسی طرح) لوٹائیں گے “ یقیناً سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو پوشاک پہنائی جائے گی، سنو ! میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے، پھر انھیں بائیں جانب روک لیا جائے گا، میں کہوں گا : میرے رب ! یہ تو میرے ساتھی ہیں، یہ تو میرے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : آپ کو علم نہیں کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کیں تو میں ایسے ہی کہوں گا جیسے نیک بندے (عیسیٰ (علیہ السلام)) نے کہا :” جب تک میں ان میں رہا تو مجھے ان (کے افعال) کی خبر تھی پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تو ہی ان پر نگران تھا “ کہا جائے گا : جب سے آپ نے ان سے مفارقت وجدائی اختیار کی یہ لوگ مسلسل مرتد ہوتے رہے (اور اپنے آباء و اجداد کے دین کی طرف لوٹتے رہے۔ (مسند احمد، بخاری، ترمذی، نسائی عن ابن عباس)