38956- "يحشر رجلان من مزينة، هما آخر من يحشر، يقبلان من جبل حتى يأتيا معالم الناس فيجدان الأرض وحوشا حتى يأتيا المدينة فإذا جاءا قالا: أين الناس؟ فلا يريان أحدا فيقول أحدهما لصاحبه: الناس في دورهم! فيدخلان الدور فإذا ليس فيها أحد وإذا على الفراش الثعالب والسنانير فيقولون: أين الناس؟ فيقول أحدهما لصاحبه: الناس في المسجد! فيأتيا المسجد فلا يجدان فيه أحدا فيقولان: أين الناس؟ فيقول أحدهما لصاحبه: أراهم في السوق شغلتهم الأسواق! فيخرجان حتى يأتيا السوق فلا يجدان فيها أحدا فينطلقان حتى يأتيا المدينة فإذا عليها ملكان فيأخذان بأرجلهما فيسحبانهما إلى أرض المحشر، فهما آخر الناس حشرا." ك وابن مردويه وابن عساكر عن أبي سريحة الغفاري".
٣٨٩٥٦۔۔۔ مزینہ کے دو شخص جمع کئے جائیں گے ان کا حشر سب سے آخر میں ہوگا۔ وہ پہاڑ سے لوگوں کے گھروں کی جانب آئیں گے تو زمین کو وحشی جانور سے پر پائیں گے، پھر مدینہ آئیں گے وہاں پہنچ کر کہیں گے : لوگ کہاں ہیں ؟ انھیں کوئی نظر نہیں آئے گا، ان میں سے ایک اپنے ساتھ والے سے کہے گا : لوگ گھروں میں ہوں گے گھروں میں داخل ہوں گے تو وہاں بھی کوئی نہیں ہوگا اور بچھونوں بستروں پر لومڑیاں اور بلیاں ہوں گی، کہیں گے : لوگ کہاں گئے ؟ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہے گا : لوگ مسجد میں ہوں گے ؟ مسجد میں آئیں گے تو وہاں بھی کوئی نہیں ملے گا، ان میں سے ایک کہے گا : مجھے لگتا ہے لوگ بازاروں میں ہیں بازاروں کی مشغولی نے انھیں روک رکھا ہوگا، وہاں سے نکل کر بازار آئیں گے تو وہاں بھی کوئی نہیں ہوگا، پھر وہ چلتے چلتے مدینہ آئیں گے تو وہاں دو فرشتے ہوں گے جو انھیں ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے محشر کی زمین پر لے جائیں گے تو یہ سب سے آخر میں جمع ہوں گے۔ (حاکم وابن مردویہ وابن عساکر عن ابی سریحۃ الغفاری)