38993- "ألا تسألون من أي شيء ضحكت؟ عجبت من مجادلة العبد ربه يوم القيامة يقول: يا رب؟ أليس وعدتني أن لا تظلمني؟ قال: بلى قال فإني لا أقبل علي شهادة شاهد إلا من نفسي فيقول: أوليس كفى بي شهيدا وبالملائكة الكرام الكاتبين؟ فيردد هذا مرات فيختم على فيه وتتكلم أركانه بما كان يعمل، فيقول بعدا لكن وسحقا! فعنكن كنت أجادل." ك - عن أنس".
٣٨٩٩٣۔۔۔ تم لوگ مجھ سے پوچھتے نہیں میں کسی وجہ سے ہنس رہا ہوں ؟ مجھے قیامت کے روز بندے کی اپنے رب سے جھگڑے کی وجہ سے ہنسی آگئی۔ وہ کہے گا : میرے رب ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا مکہ مجھ پر ظلم نہیں کرے گا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیوں نہیں ، وہ کہے گا : میں اپنے بارے میں اپنے سوا کسی کی گواہی قبول نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا میں اور معزز ر لکھنے والے (کراماًکاتبین) کافی گواہ نہیں ؟ چنانچہ وہ پھر اس بات کو کئی بار دہرائے گا پھر اس کے منہ پر مہر لگادی جائے گی اور اس کے اعضاء بولیں گے، جو وہ عمل کرتا رہا، وہ کہے گا دوری ہو بلکہ دفع ہوجاؤ میں تو تمہارے بارے میں جھگڑتا تھا۔ (حاکم عن انس)