39017- "إن الله تعالى يدني المؤمن فيضع عليه كنفه2 ويستره من الناس ويقرره بذنوبه فيقول: أتعرف ذنب كذا؟ أتعرف ذنب كذا؟ أتعرف ذنب كذا؟ فيقول: نعم أي رب! حتى إذا قرره بذنوبه ورأى في نفسه أنه قد هلك قال: فإني قد سترتها عليك في الدنيا وأنا أغفرها لك اليوم، ثم يعطى كتاب حسناته بيمينه، وأما الكافر والمنافق "فيقول الأشهاد هؤلاء الذين كذبوا على ربهم ألا لعنة الله على الظالمين". "حم، ق، ن، هـ- عن ابن عمر"
٣٩٠١٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب کرکے اس پر اپنا پردہ (رحمت) ڈالے گا اور لوگوں سے اسے چھپالے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار لے گا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : کیا فلاں گناہ جانتے ہو ! ؟ فلاں گناہ پہچانتے ہو ؟ !
کیا فلاں گناہ پہچانتے ہو ؟ وہ عرض کرے گا : جی ہاں اے میرے رب ! یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے گناہوں کا اقرار لے گا اور وہ دل ہی دل میں سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہوگیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے دنیا میں تجھ پر پردہ ڈالے رکھا اور آج (آخرت میں) تیرے گناہ بخشتا ہوں، پھر اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
رہا کافر اور منافق تو گواہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھوٹ بولا، سنو ! ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ (مسند احمد، بخاری نسائی، ابن ماجہ عن ابن عمر)