39066- "سألت ربي في أبناء الأربعين من أمتي فقال: يا محمد! قد غفرت لهم، قلت: فأبناء الخمسين! قال: إني قد غفرت لهم، قلت: فأبناء الستين! قال: قد غفرت لهم، قلت: فأبناء السبعين! قال: يا محمد! إني لأستحيي من عبدي أن أعمره سبعين سنة يعبدني لا يشرك بي شيئا أن أعذبه بالنار، فأما أبناء الأحقاب أبناء الثمانين والتسعين فإني واقف يوم القيامة فقائل لهم: أدخلوا من أحببتم الجنة من الناس." أبو الشيخ - عن عائشة"
٣٩٠٦٦۔۔۔ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے چالیس سالہ لوگوں کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا : اے محمد ! میں نے ان کی بخشش کردی ہے، میں نے عرض کیا : پچاس سالہ فرمایا : میں نے ان کی مغفرت بھی کردی ہے میں نے عرض کیا : سترسالہ فرمایا : اے محمد ! اپنے بندے سے حیا آتی ہے کہ اسے ستر سال کی عمر دوں، جب کہ وہ میری عبادت کرتا ہو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، اور میں اسے جہنم کا عذاب دوں۔ رہے لمبے سالوں والے یعنی اسی اور نوے سال والے تو میں قیامت کے روز ان سے کہوں گا : جن لوگوں کو چاہو جنت میں داخل کرلو ! (ابوالشیخ عن عائشۃ)