39117- "يوضع للأنبياء منابر من ذهب يجلسون عليها ويبقى منبري لا أجلس عليه قائما بين يدي ربي عز وجل منتصبا بأمتي مخافة أن يبعث بي إلى الجنة وتبقى أمتي بعدي فأقول: يا ربي! أمتي أمتي، فيقول الله تعالى: ما تريد أن أصنع بأمتك يا محمد؟ فأقول: يا رب! عجل حسابهم فيدعى بهم فيحاسبون، فمنهم من يدخل الجنة برحمة الله تعالى، ومنهم من يدخل الجنة بشفاعتي، فلا أزال أشفع حتى أعطى صكا برجال قد أمر بهم إلى النار حتى أن خازن النار ليقول: يا محمد! ما تركت لغضب ربك في أمتك من نقمة." ابن أبي الدنيا في حسن الظن بالله، طب ، ك وتعقب، ق في البعث، كر وابن النجار - عن ابن عباس".
٣٩١١٧۔۔۔ انبیاء کے لیے سونے کے منبر رکھے جائیں گے جن پر وہ بیٹھیں گے اور میرا منبر خالی رہے گا میں اس پر نہیں بیٹھوں گا میں اپنے رب کے سامنے دست بستہ کھڑا رہوں گا کہ کہیں مجھے جنت میں پہنچا دیا جائے اور میری امت میرے بعد تنہا رہ جائے میں عرض کروں گا : میرے رب ! میری امت میری امت اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد ! آپ کیا چاہتے ہیں کہ میں آپ کی امت سے کا برتاؤ کروں ؟ میں عرض کروں گا : میرے رب ! ان کا حساب جلد لیں چنانچہ انھیں بلا کر ان سے حساب لیا جائے گا ان میں سے کوئی تو اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوجائے گا اور کوئی میری شفاعت سے داخل ہوگا میں شفاعت کرتا رہوں گا یہاں تک کہ مجھے ان آدمیوں کی ایک فہرست دی جائے گی جن کے بارے جہنم کا حکم ہوچکا ہوگا اور جہنم کا داروغہ کہے گا : اے محمد ! تم نے اپنے رب کی ذرا ناراضگی اپنی امت میں نہیں چھوڑی۔ (ابن ابی الدنیا فی حسن الظن یا اللہ، طبرانی، حاکم وتعقب بیھقی فی البعث ابن عساکر وابن النجار عن ابن عباس )
کلام :۔۔۔ القدیۃ الضعیفہ ٣٩۔