39149- "إن حوضي من عدن إلى عمان البلقاء، ماؤه أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل، وأكاويبه عدد النجوم، من شرب منه شربة لم يظمأ بعدها أبدا، أول الناس ورودا عليه فقراء المهاجرين الشعث رؤسا، الدنس ثيابا الذين لا ينكحون المتنعمات ولا يفتح لهم السدد، الذين يعطون الحق الذي عليهم ولا يعطون الذي لهم." حم، ت، هـ، ك - عن ثوبان".
٣٩١٤٩۔۔۔ میرا حوض عدن سے عمان بلقاء تک (چوڑا) ہے اس کا پانی دودھ سے سفید اور شہد سے میٹھا ہے اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں جس نے اس کا ایک گھونٹ پی لیا کبھی پیاسا نہیں ہوگا سب سے پہلے وہاں مہاجرین کے فقراء لوگ آئیں گے جن کے سرپر اگندہ کپڑے میلے جو مالدار عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتے اور نہ ان کے ہے بند دروازے کھلتے ہیں جن سے ان پر واجب حق تو وصول کیا جاتا ہے اور جو ان کا حق بنا ہے وہ انھیں نہیں دیا جاتا۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ حاکم عن ثوبان)