39176- "حوضي كما بين عدن وعمان، أبرد من الثلج وأحلى من العسل وأطيب ريحا من المسك. أكاويبه مثل نجوم السماء، من شرب منه شربة لم يظمأ بعدها أبدا، أول الناس ورودا عليه صعاليك المهاجرين قال قائل منهم: ومن هم يا رسول الله؟ قال الشعثة رؤسهم، الشحبة وجوههم، الدنسة ثيابهم الذين لا تفتح لهم السدد ولا ينكحون المتنعمات، الذين يعطون كل الذي عليهم ولا يأخذون الذي لهم." حم، طب - عن ابن عمر".
٣٩١٧٦۔۔۔ میرا حوض عدن و عمان کے درمیانی علاقہ جتنا ہے اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا شہد سے زیادہ میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے اس کے جام آسمانی ستاروں کی تعداد میں ہوں گے جس نے اس کا ایک گھونٹ بھی پی لیا کبھی پیاسا نہیں ہوگا سب سے پہلے وہاں مہاجرین کے فقراء لوگ آئیں گے کسی نے کہا : یارسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جن کے سرپراگندہ چہرے پیلے پڑے ہوئے جن کے کپڑے میلے ان کے سامنے بند دروازے نہیں کھولے جاتے اور نہ وہ مالدار عورتوں سے شادی کرسکتے ہیں جو ان کے ذمہ ہے وہ تو وصول کرلیا جاتا ہے لیکن جو ان کا حق بنتا ہے وہ نہیں دیا جاتا۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر عن ابن عمر)