hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 3931

.

كنز العمال

3931
Kanz al-Ummal
3931 – "أكثروا ذكر الله عز وجل على كل حال فإنه ليس عمل أحب إلى الله تعالى، ولا أنجى لعبد من كل سيئة في الدنيا والآخرة من ذكر الله قيل ولا القتال في سبيل الله، قال لولا ذكر الله لم يؤمر بالقتال في سبيل الله ولو اجتمع الناس على ما أمروا به من ذكر الله تعالى ما كتب الله القتال على عباده، فإن ذكر الله تعالى لا يمنعكم من القتال في سبيله بل هو عون لكم على ذلك فقولوا: لا إله إلا الله، والله أكبر وقولوا سبحان الله، والحمد لله، وقولوا تبارك الله فإنهن خمس لا يعدلهن شيء، عليهن فطر الله ملائكته، ومن أجلهن رفع سماءه، ودحا أرضه، وبهن جبل إنسه وجنه، وفرض عليهم فرائضه، ولا يقبل الله ذكره إلا ممن اتقى وطهر قلبه، وأكرموا الله أن يرى منكم ما نهاكم عنه، قالوا يا رسول الله فإن ذكر الله لا يكفينا من الجهاد، قال ولا الجهاد يكفي من ذكر الله، ولا يصلح الجهاد إلا بذكر الله، وإنما الجهاد شعبة من شعب ذكر الله، وطوبى لمن أكثر في الجهاد من ذكر الله، وكل كلمة بسبعين ألف حسنة، كل حسنة بعشر، وعند الله من المزيد ما لا يحصيه غيره، قالوا يا رسول الله والنفقة قال والنفقة على حسب ذلك، قالوا: يا رسول الله إن ذكر الله هو أهون العمل قال إن الله كريم، إنما فرض على الناس أهون العمل، فأبى أكثر الناس إلا كفورا، فلما لم يقبلوا رحمة الله، أمر الله بجهادهم فاشتد ذلك على المؤمنين، وجعل الله لهم العاقبة، وجعل لهم النقمة من الكافرين". "ابن صصري في أماليه عن معاذ".
3931: حضرت معاذ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
ہر حال میں کثرت کے ساتھ اللہ عزوجل کا ذکر کرو، بیشک کوئی عمل اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور بندہ کو دنیا و آخرت میں برائیوں سے زیادہ نجات دینے والا اللہ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہے۔ پوچھا گیا نہ قتال فی سبیل اللہ ؟ فرمایا : اگر اللہ کا ذکر نہ ہوتا تو قتال فی سبیل اللہ کا حکم بھی نہ دیا جاتا۔ اگر تمام انسانیت اللہ عزوجل کے نزدیک پر جیسا کہ اس کا حکم ہے اکٹھی ہوجائے تو اللہ پاک اپنے بندوں پر قتال فرض نہ کرتے۔ بیشک اللہ کا ذکر تم کو قتال فی سبیل اللہ سے نہیں روکتا بلکہ اس میں تمہاری مدد کرتا ہے۔ پس تم کہو : لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اور سبحان اللہ والحمد للہ اور کہو تبارک اللہ، یہ پانچ کلمات ایسے ہیں جن کی ہمسری کوئی شئی نہیں کرسکتی۔ انہی پر اللہ نے ملائکہ کو پیدا کیا، انہی کی وجہ سے اللہ نے آسمان کو بلند کیا، زمین کو بچھایا، انہی کے ساتھ انسانوں اور جنوں کی جبلت رکھی، اور ان پر اللہ نے اپنے فرائض مقرر کیے۔
اللہ پاک اپنا ذکر صرف اسی سے قبول فرماتے ہیں جو تقوی اختیار کرے اور اپنے دل کو پاک کرے۔ پس تم اللہ کا اکرام کرو (یوں کہ) ایسی باتوں میں اللہ تم کو مشغول نہ دیکھے جن سے تم کو منع کیا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا اللہ کا ذکر ہم کو جہاد سے کافر نہیں ہے ؟ فرمایا : جہاد تو ذکر اللہ سے کافی نہیں ہے اور نہ جہاد ذکر اللہ کے بغیر درست ہوسکتا ۔ جہاد ذکر اللہ کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے۔ خوش خبری ہے اس شخص کے لیے جو جہاد میں کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرے۔ (کیونکہ جہاد کے دوران) ہر کلمہ ستر ہزار نیکیاں رکھتا ہے اور ہر نیکی دس گنا (ہر حال میں) ہوجاتی ہے۔ اور اللہ کے ہاں اس قدر ثواب ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی شمار نہیں کرسکتا۔
لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنا ؟ فرمایا : (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنا بھی اسی در زیادہ ثواب رکھتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ذکر اللہ سب سے زیادہ آسان عمل ہے، فرمایا : اللہ کریم ہے۔ اس نے لوگوں پر سب سے زیادہ آسان شیء کو فرض کیا ہے لیکن پھر بھی لوگ کفر و ناشکری کرتے ہیں۔ چنانچہ جب لوگوں نے اللہ کی رحمت (ذکر اللہ کو قبول نہیں کیا تو اللہ نے ان کے ساتھ جہاد کا حکم دیا، یہ چیز مومنین پر سخت وگئی اور اللہ نے انجام کار جہاد کو مومن کے لیے بہتر کردیا اور کافروں کو لیے عذاب کردیا۔ (ابن صصری فی امالیہ عن معاذ (رض))