39356- "إن الرجل ليتكيء في الجنة سبعين سنة قبل أن يتحول ثم تأتيه امرأة فتضرب على منكبيه فينظر وجهه في خدها أصغى من المرآة، وإن أدنى لؤلؤة عليها تضيء ما بين المشرق والمغرب فتسلم عليه، فيرد السلام ويسألها: من أنت؟ فتقول: أنا من المزيد وإنه ليكون عليها سبعون ثوبا أدناها مثل النعمان من طوبى فينفذها بصره حتى يرى مخ ساقها من وراء ذلك، وإن عليها التيجان إن أدنى لؤلؤة منها لتضيء ما بين المشرق والمغرب." حم، ع، حب، ص - عن أبي سعيد".
٣٩٣٥٦۔۔۔ آدمی جنت میں پہلو بدلے بغیر ستر سال تک ٹیک لگائے بیٹھا رہے گا پھر ایک عورت آکر اس کے کندھے پر تھپکی دے گی وہ اس کے چہرے پر نظر ڈالے گا جس کا رخسار آیئنے سے زیادہ صاف ہوگا اور اس کا ادنی موتی مشرق ومغرب کو روشن کردے چنانچہ وہ اسے سلام کرے گی وہ سلام کا جواب دے گا اور اس سے پوچھے گا : وہ کہے گی : میں مزید نعمت ہوں اس کے بدن پر ستر ہزار کپڑے ہوں گے کم سے کم نعمان کی طرح اچھے ہوں گے اس کی نگاہ ان کپڑوں سے گزرتی ہوئی اس کی پنڈلی کا گودار دیکھ لے گی اس کے سرپر تاج ہوگا جس کا ادنیٰ موتی مشرق ومغرب کو روشن کردے۔ (مسنداحمس ابویعلی ابن حبان سعید بن منصور عن ابی سعید)