3955 - وبه عن أبي واقد قال: بينا أنا عند أبي بكر، إذا أتي بغراب، فلما رآه بجناحين حمد الله، ثم قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: "ما صيد مصيد إلا بنقص من تسبيح، إلا أنبت الله نابه وإلا وكل به ملكا يحصي تسبيحها حتى يأتي يوم القيامة ولا عضد من شجرة وشيجة، وما عفا الله أكثر، يا غراب اعبد الله، ثم خلى سبيله". "كر" وقال هذا حديث منكر والحكم بن عبد الله بن خطاف ضعيف والخبائري ضعيف والرجلان اللذان قبلهما حمصيان مجهولان.
3955: اسی مذکورہ مسند کے ساتھ مروی ہے حضرت ابو واقد (رض) فرماتے ہیں میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس حاضر مجلس تھا، آپ (رض) کی خدمت میں ایک کوا لایا گیا۔ آپ (رض) نے اس کو سالم پروں کے ساتھ دیکھا تو الحمد للہ پڑھا۔ پھر فرمایا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔
کوئی شکار شکار نہیں ہوتا مگر تسبیح میں کمی کی وجہ سے، ورنہ اللہ پاک (اگر وہ تسبیح کرتا ہے تو ) اس کے ناب (نوکیلے دانت یا پنجے وغیرہ) اگا دیتے ہیں اور ایک فرشتہ اس پر نگراں مقرر کردیتے ہیں جو اس کی تسبیح (روز و شب) شمار کرتا رہتا ہے۔ حتی کہ قیامت کو وہ (اپنی تسبیحات کے ساتھ) پیش ہو۔ اور نہ کوئی ریشہ دار درخت کاٹا جاتا ہے۔ (مگر اس کے تسبیح چھوڑ دینے کی وجہ سے) اور اکثر و بیشتر اللہ پاک معاف کرتے رہتے ہیں۔
پھر آپ (رض) نے فرمایا اے کوے ! اللہ کی عبادت کیا کر ! پھر آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ رواہ ابن عساکر۔
کلام : یہ روایت منکر (ناقابل اعتبار ہے) کیونکہ روایت میں شروع کے مذکور دو راوی مجہول الحال ہیں اور ان کے بعد کے دو راوی حکم بن عبداللہ اور الخبائری ضعیف ہیں۔