39592- عن علي قال: يذهب الناس حتى لا يبقى أحد يقول: لا إله إلا الله، فإذا فعلوا ذلك ضرب يعسوب الدين بذنبه فيجتمعون إليه من أطراف الأرض كما يجتمع فرع الخريف، والله إني لأعرف اسم أميرهم ومناخ ركابهم، يقولون: القرآن مخلوق، وليس بخالق ولا مخلوق ولكنه كلام الله، منه بدأ وإليه يعود."اللالكائي والأصبهاني".
٣٩٥٩٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ فرمائی : لوگ ختم ہوجائیں گے یہ ان تک کہ لاالہ الا اللہ کہنے والا کوئی نہ رہے گا جب لوگ ایسا کرلیں گے تو شہد کی مکھی دین کوڈ سے گی تو لوگ اس کے پاس ایسے جمع ہوں گے جیسے خزاں کے پتے جمع ہوتے ہیں اللہ کی قسم ! مجھے ان کی امیر کا نام اور ان کی سواریوں کی ٹھہرنے کی جگہ کا علم ہے لوگ کہتے ہیں : قرآن مخلوق ہے نہ خالق ہے اور نہ مخلوق لیکن اللہ کا کلام ہے اسی سے اس کا آٖغاز ہوا اور اسی کی طرف لوٹ کرجائے گا۔ (اللالکائی والا صبھانی)