39596- عن عوف بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اعدد يا عوف ستا بين يدي الساعة: أولهن موتي - فاستبكيت حتى جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يسكتني - ثم قال: قل إحدى، والثانية فتح بيت المقدس - قل: اثنين، والثالثة موتان يكون في أمتي كقعاص الغنم - قل: ثلاثا، والرابعة فتنة تكون في أمتي وأعظمها - قل: أربعا، والخامسة يفيض المال فيكم حتى يعطى الرجل المائة الدينار فيسخطها - قل: خمسا، والسادسة هدنة تكون بينكم وبين بني الأصفر، ثم يسيرون إليكم فيقاتلونكم، والمسلمون يومئذ في أرض يقال لها "الغوطة" في مدينة يقال لها "دمشق". "نعيم بن حماد في الفتن".
٣٩٥٩٦۔۔۔ عوف بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عوف (رض) قیامت سے پہلے چھ چیزیں شمار کر لیناسب سے پہلے میری وفات تو میں رونے لگا یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے چپ کرانے لگے۔ پھر فرمایا : کہو للہ ایک دوسری بیت المقدس کی فتح کہو دو اور بکثرت موتیں جو میری امت میں ایسے ہوں گی جیسے بکریوں میں گردن توڑ بیمار ہوتی ہے کہو ! تین چوتھی چیز ایسا فتنہ جو میری امت میں سب سے بڑا ہوگا کہو ! چار پانچویں مال تم لوگوں میں بکثرت ہوگا یہاں تک کہ آدمی کو سو دینار دے جائیں گے پھر بھی وہ ناراض ہوگا کہو پانچ ، چھٹی بدعہدی جو تم میں اور ترکوں میں ہوگی اس کے بعد وہ تمہاری طرف چل کر آئیں گے اور تم سے جنگ کریں گے اور مسلمان اس وقت غوطہ نامی زمین میں دمشق نامی شہر میں ہوں گے۔ (نعیم بن حماد فی الفتن)