39602- "أيضا" عن صلة بن زفر قال: شهدت فتح بلنجر فبينا نحن نسير مع حذيفة فقال لي: يا صلة! قلت: لبيك، قال: كيف أنت إذا سار المسلمون إلى بيضاء خرد ومعهم الفالنجار حتى ينقضوها حجرا حجرا! قلت: إن ذلك لكائن؟ قال: نعم، والذي نفسي بيده! ما كذبت ولا كذبت؛ قلت: على يدي من يكون ذلك؟ قال: على يدي غلام من بني هاشم، ثم: قال. صلة! قلت: لبيك، قال: كيف أنت إذا سار المسلمون إلى طبرستان معهم الفالنجار حتى ينقضوها حجرا حجرا! قلت: إن ذلك لكائن؟ قال: نعم، والذي نفسي بيده! ما كذبت ولا كذبت، قلت: على يدي من يكون ذلك؟ قال على يدي غلام من بني هاشم ثم صلة! قلت: لبيك، قال: كيف أنت إذا سار المسلمون إلى القسطنطينية معهم الفالنجار حتى ينقضوها حجرا حجرا! إن ذلك لكائن؟ قال: نعم، والذي نفسي بيده! ما كذبت ولا كذبت، قلت: على يدي من يكون ذلك؟ على يدي غلام من بني هاشم."كر".
٣٩٦٠٢۔۔۔ (ایضا) صلۃ بن زفر سے روایت ہے فرمایا : میں بلنجر کی فتح میں حاضر تھا ہم لوگ حضرت حذیفہ (رض) کے ہمراہ چل رہے تھے آپ نے مجھ سے فرمایا : صلہ ! میں نے عرض کیا : جی حضرت ! فرمایا : اس وقت ہماری کیا حالت ہوئی جب مسلمان سفید کی طرف چلیں گے ان کے ساتھ فالنجارہ یہاں تک کہ وہ اس کا پتھر پتھر توڑدیں گے میں نے کہا : کیا ایسا ہونے والا ہے ؟ ہاں اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں نے جھوٹ بولا اور نہ مجھ سے جھوٹ کہا گیا میں نے کہا : کس کے ہاتھ پر ایسا ہوگا فرمایا : ایک ہاشمی نوجوان کے ہاتھ پر، پھر صلہ میں نے کہا : جی جناب ! فرمایا : اس وقت تم کس حال میں ہوگے جب مسلمان طبرستان کا رخ کریں گے ان کے پاس فالنجار ہوگا وہ اس کے ذریعہ اس کا پتھر پتھر توڑدیں گے میں نے کہا : ایسا ہوھا آپ نے فرمایا : ہاں اس ذات کی قسم جس کے جس کی قبضہ قدرت میں میرجان ہے نہ میں نے جھوٹ بولا اور نہ مجھ سے جھوٹ کہا گیا میں نے کہا : کس کے ہاتھوں ایسا ہوگا فرمایا : ایک ہاشمی نوجوان کے ہاتھوں پھر فرمایا : صلہ ! میں نے کہا : جی حضرت ! فرمایا : ہاں اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے نہ میں نے جھوٹ بولا اور نہ مجھ سے جھوٹ کہا گیا میں نے کہا : کس کے ہاتھوں ؟ فرمایا : ایک ہاشمی نوجوان کے ہاتھوں ۔ (رواہ ابن عساکر)