39612- عن عبد الله بن حوالة قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثنا على أقدامنا حول المدينة لنغنم، فقدمنا ولم نغنم شيئا، فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي بنا من الجهد قال: "اللهم! لا تكلهم إلي فأضعف عنهم، ولا تكلهم إلى الناس فيهونوا عليهم ويستأثروا عليهم، ولا تكلهم إلى أنفسهم فيعجزوا عنها، ولكن توحد بأرزاقهم ثم قال: لتفتحن لكم الشام ثم لتقسمن لكم كنوز فارس والروم وليكونن لأحدكم من المال كذا وكذا حتى أن أحدكم ليعطى مائة دينار فيسخطها، ثم وضع يده على رأسي فقال: يا ابن حوالة! إذا رأيت الخلافة قد نزلت في الأرض المقدسة فقد أتت الزلازل والبلابل والفتن والأمور العظام، والساعة أقرب إلى الناس من يدي هذه إلى رأسك." يعقوب بن سفيان، كر".
٣٩٦١٢۔۔۔ عبداللہ بن حوالہ سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں پیدل غنیمت کے لیے بھیجا تو ہم لوگ بغیر کچھ لائے واپس آگئے ط آپ نے جب ہماری مشقت وٹھکاوٹ دیکھی تو دعا کی اے اللہ ! اس میرے حوالے نہ کر میں ان کی کفالت سے کمزور پڑجاؤں اور نہ لوگوں کے سپرد کر کہ یہ ان کے سامنے بےوقت ہوجائیں اور انھیں ترجیح دینے لگیں اور نہ انھیں ان کے اپنے حوالے کر کہ عاجز پڑجائیں بلکہ ان کے رزق اکیلے ہی ذمہ دار بن جا پھر فرمایا : تمہارے لیے ضرور شام فتح ہوگا اور ضرور تمہارے لیے فارس روم کے خزانے تقسیم ہوں گے اور تم میں سے ایک آدمی کے پاس اتنا اتنا مال ہوگا یہاں تک کہ ایک شخص کو سو دینار دیئے جائیں گے پھر انھیں ناراضگی سے لے گا کہ تھوڑے ہیں۔
اس کے بعد میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : ابن حوالہ : جب دیکھو کہ خلافت (شام) ارض مقدس میں اترچکی تو اس وقت زلزلے وصعوبتیں فتنے اور بڑے بڑے امور پیش آئیں گے اور قیامت اس وقت لوگوں کے اتنے نزدیک ہوگی جتنا میرا یہ ہاتھ تمہارے سر کے قریب ہے۔ (یعقوب بن سفیان ابن عساکر)