39688- عن حذيفة قال: إن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كانوا يسألون عن الخير وكنت أسأل عن الشر مخافة أن أدركه، وإني بينما أنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم قلت: يا رسول الله! أرأيت هذا الخير الذي أعطانا الله هل بعده من شر كما كان قبله شر؟ قال: "نعم، قلت: فما العصمة منه؟ قال: السيف، قلت: وهل للسيف من بقية؟ قال: هدنة على دخن، قلت: يا رسول الله! ما بعد الهدنة قال: دعاة للضلالة، فإن لقيت لله يومئذ خليفة في الأرض فالزمه وإن أخذ مالك وضرب ظهرك وإلا - وفي لفظ: فإن لم يكن خليفة - فاهربن في الأرض حد هربك حتى يدركك الموت وأنت عاض أصل شجرة، قلت: يا رسول الله! فما بعد دعاة الضلالة؟ قال: خروج الدجال، قلت: يا رسول الله! ما يجيء الدجال؟ قال: يجيء بنار ونهر، فمن وقع في ناره وجب أجره وحط وزره، قلت: يا رسول الله! فما بعد الدجال؟ قال: عيسى ابن مريم؟ قلت: فما بعد عيسى ابن مريم؟ قال: لو أن رجلا أنتج فرسا لم يركب ظهرها حتى تقوم الساعة." ش، كر".
٣٩٦٨٨۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ آپ سے بھلائی کے متعلق پوچھتے جبکہ میں برائی کا سوال کرکے اس سے بچنے کی کوشش کرتا ایک دفعہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ بھلائی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے کیا اس کے بعد بھی کوئی برائی ہوگی جیسا اس سے پہلے ایک شر تھا ؟ فرمایا : ہاں میں نے عرض کیا : اس سے بچنے کا طریقہ : فرمایا : تلوار نے عرض کیا : کیا تلوار کو باقی رکھنے کی کوئی چیز ہے ؟ فرمایا : بدعہدی پر صلح نہیں، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! صلح کے بعد کیا ہوگا ؟ فرمایا : گمراہی کی طرف بلانے والے اس دن اگر تمہیں اللہ والا زمین میں کوئی خلیفہ ملے تو اس کے ساتھ چمٹ جانا اگرچہ وہ تمہارا مال لے لے تمہیں کوڑے مارے ورنہ اور ایک روایت میں ہے اگر خلیفہ نہ ہو تو زمین پر پورے زور سے بھاگ جانا یہاں تک کہ تمہیں اس حال میں موت آئے کہ تم کسی درخت کی جڑ چبا رہے ہو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! گمراہی کی دعوت دینے والوں کے بعد کیا ہوگا ؟ فرمایا : دجال کا نکلنا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! دجال کیا لائے گا ؟ فرمایا : جہنم اور نہر لائے گا جو اس کی آگ میں گرا اس کا اجر ثابت ہوگا اور گناہ جھڑ گیا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! دجال کے بعد کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) کے بعد کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : اگر کسی نے گھوڑی جنوائی تو اس کی پیٹھ پر سوار نہیں ہوسکے گا یہاں تک قیامت قائم ہوجائے گی۔ (ابن ابی شیبۃ ابن عساکر)