39711- "من مسند جابر بن عبد الله" عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لقي ابن صياد ومعه أبو بكر فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أتشهد أني رسول الله؟ فقال ابن صياد: أتشهد أني رسول الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: آمنت بالله ورسله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما ترى؟ فقال ابن صياد: أرى عرشا على الماء، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ترى عرش إبليس على البحر، قال: ما ترى: قال: أرى صادقين أو كاذبين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لبس عليه فدعوه، لبس عليه فدعوه." ش"
٣٩٧١١۔۔۔ (ازمسند جابر بن عبداللہ) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن صیاد سے ملے آپ کے ساتھ ابوبکر تھے آپ نے فرمایا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ وہ کہنے لگا : کیا آپ گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں/تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ (جب کہ تو ان میں سے نہیں ہے) بتا تجھے کیا نظر آتا ہے ؟ ابن صیاد کہنے لگا : مجھے پانی پر عرش نظر آرہا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : تجھے ابلیس کا عرش پانی پر نظر آرہا ہی پھر آپ نے فرمایا : تجھے کیا نظر آتا ہے ؟ کہنے لگا : مجھے کہے اور جھوٹے نظر آتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اشتباہ میں ہے اسے چھوڑو اس پر معاملہ گڑبڑ ہے اسے چھوڑدو۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)