hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 39766

.

كنز العمال

39766
Kanz al-Ummal
39753- "مسند عبد الله بن بسر النصري والد عبد الواحد" قال كر: له صحبة ورواية، عنه ابنه عبد الواحد وعمرو بن روبة عن الأوزاعي عن عبد الواحد بن عبد الله بن بسر قال حدثني أبي قال:بينما نحن بفناء رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوس إذ خرج علينا مشرق الوجه يتهلل فقمنا في وجهه فقلنا: يا رسول! سرك الله! إنه ليسرنا ما نرى من إشراق وجهك وتطلقه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إمن جبريل أتاني آنفا فبشرني أن الله قد أعطاني الشفاعة، فقلنا: يا رسول الله! أفي بني هاشم خاصة؟ قال: لا، فقلنا: أفي قريش عامة؟ قال: لا، قلنا: في أمتك؟ قال: هي في أمتي للمذنبين المثقلين." طب، كر".
٣٩٧٥٣۔۔۔ (مسند عبداللہ بن بسرانصری والد عبدالواحد) ابن عساکر فرماتے ہیں وہ صحابی ہیں اور انھیں روایت کی فضیلت بھی حاصل ہے ان سے ان کے بیٹے عبدالواد اور عمروبن روبہ روایت کرتے ہیں اوزاعی عبدالواحد بن بسر سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے فرمایا : ایک دفعہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحن میں بیٹھے تھے کہ اچانک آپ کھلکھلاتے ہنس مکھ چہرے کے ساتھ باہر تشریف لائے ہم لوگ کھڑے ہوگئے ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ آپ کو خوش رکھے ! آپ ہشاش بشاش طبیعت اور خندہ پیشانی سے کس قدر خوشی ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابھی میرے پاس جبرائیل آئے انھوں نے مجھے خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاعت عطاکی ہے ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! صرف بنی ہاشم کے لیے خاص طورپر ؟ آپ نے فرمایا کیا : نہیں ہم نے عرض کیا : قریش کے لیے عام طورپر ؟ فرمایا : ہیں ہم نے عرض کیا : آپ کی امت کے لیے ؟ فرمایا : میری امت میں سے گناہوں کی امت کی بوجھ سے لائے لوگوں کے لیے (طبرانی فی الکبیرابن عساکر