39758- "مسند علي" عن حرب بن شريح قال قلت لأبي جعفر محمد بن علي بن الحسين: جعلت فداك! أرأيت هذه الشفاعة التي يتحدث بها بالعراق أحق هي؟ قال: شفاعة ماذا؟ قلت: شفاعة محمد صلى الله عليه وسلم، قال: حق والله! إي والله! لحدثني عمي محمد بن علي ابن الحنفية عن علي بن أبي طالب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أشفع لأمتي حتى يناديني ربي فيقول: أرضيت يا محمد؟ فأقول: نعم رضيت": ثم أقبل علي فقال: إنكم تقولون يا معشر العراق إن أرجى آية في كتاب الله {يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا إنه هو الغفور الرحيم} ؟ قلت: إنا لنقول ذلك، قال: ولكنا أهل البيت نقول: إن أرجى آية في كتاب الله {ولسوف يعطيك ربك فترضى} وهي الشفاعة."ابن مردويه".
٣٩٧٥٨۔۔۔ (مسند علی) حرب بن شریح سے رویت فرماتے ہیں : میں نے ابوجعفرمحمد بن الحسین سے کہا : میں آپ پر فداہوں یہ شفاعت جس کا عراق میں چرچا ہے یہ برحق ہے ؟ فرمانے لگے : کونسی شفاعت ؟ میں نے کہا : حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت، فرمایا : اللہ کی قسم، برحق ہے ہاں اللہ کی قسم مجھ سے میری چچا محمد بن علی ابن الحسنیفۃ نے علی بن ابی طالب رضی للہ عنہ سے روایت کرکے بیان کیا، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اپنی امت کے لیے شفاعت کروں گایہاں تک کہ میرا رب مجھے پکار کرک ہے گا : محمد ! کیا راضی ہوگئے ہو میں عرض کروں گا : جی ہاں میں راضی ہوگیاہوں پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : عراق والو للہ تم کہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت یہ ہے کہ اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا میری رحمت سے ناامیدنہ ہو بیشک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو محشف دیتا ہے وہ بخشنے والا اور مہربان ہے ؟ میں نے کہا ہم ہی کہتے ہیں فرمایا : لیکن ہم اہل بیت کہتے ہیں سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت یہ ہے عنقریب تجھے تیرا رب وہ کچھ عطاکرے کہ تو راضی ہوجائے گا “ اور وہ شفاعت ہے۔ (ابن مردویہ)