3978 – "أبي بن كعب" "كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء أعرابي فقال: يا نبي الله إن لي أخا وبه وجع، قال: وما وجعه؟ قال به لمم، قال: فأتني به فوضعه بين يديه، فعوذه النبي صلى الله عليه
وسلم بفاتحة الكتاب وأربع آيات من أول سورة البقرة وهاتين الآيتين {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ} وآية الكرسي وثلاث آيات من آخر سورة البقرة، وآية من آل عمران {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} وآية من الأعراف {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ} وآخر سورة المؤمنين {فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ} وآية من سورة الجن {وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا} وعشر آيات من أول الصافات، وثلاث آيات من آخر سورة الحشر، و {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} والمعوذتين، فقام الرجل كأنه لم يشك قط". "حم ك ت في الدعوات".
3978: (ابی بن کعب (رض)) حضرت ابی (رض) بن کعب فرماتے ہیں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھا ایک دیہاتی آیات اور عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میرا ایک بھائی ہے جس کو کچھ تکلیف ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کیا تکلیف ہے ؟ عرض کیا : اس پر اثرات ہیں ! فرمایا اس کو میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ اعرابی اپنے بھائی کو لایا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بٹھا دیا۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سورة فاتحہ سورة بقرہ کی اول چار آیات والہکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم، آیۃ الکرسی، سورة بقرہ کی آخری تین آیات، آل عمران کی یہ مکمل آیت، شہدا للہ انہ لا الہ الا ھو سورة اعراف کی یہ مکلم آیت، ان ربکم اللہ، سورة المومنون کی آخرت آیات فتعالی اللہ الملک الحق سے آخر تک، سورة جن کی یہ مکمل آیات، وانہ تعالیٰ جد ربنا، سورة صافات کی پہلی، دس آیات، سورة حشر کی آخری تین آیات، سورة اخلاص اور معوذتین پڑھ کر دم کیں۔
چنانچہ آدمی یوں چنگا بھلا کھڑا ہوگیا گویا اس کو کبھی کوئی تکلیف ہی نہ تھی (مسند احمد، مستدرک الحاکم، الترمذی فی الدعوات)