39769- عن قيس بن أبي حازم قال: خطب عمر بن الخطاب الناس ذات يوم فقال في خطبته: إن في جنات عدن قصرا له خمسمائة باب، على كل باب خمسة آلاف من الحور العين، لا يدخله إلا نبي، ثم التفت إلى قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: هنيئا لك يا صاحب القبر! ثم قال: أو صديق، ثم التفت إلى قبر أبي بكر فقال: هنيئا لك يا أبا بكر! ثم قال: أو شهيد، ثم أقبل على نفسه فقال: أنى لك الشهادة يا عمر! ثم قال: إن الذي أخرجني من مكة إلى هجرة المدينة قادر أن يسوق إلي الشهادة."طس، كر".
٣٩٧٦٩۔۔۔ قیس بن ابی حازم سے روایت ہے فرمایا : ایک دن حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا : جنت عدن میں ایک محل ہے جس کے پانچ سو دروازے ہیں ہر دروازے پر پانچ ہزار حورعین ہیں اس میں صرف نبی ہی داخل ہوگا پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا : اے قبروالے آپ کے لیے خوشخبری ہو۔ یا صدیق پھر حضرت ابوبکر کی قبر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ابوبکر تمہیں مبارک ہو۔ یا شہید پھر شہید بارے فرمانے لگے : عمر تجھے شہادت کہاں نصیب ہوئی ہے اس کے بعد فرمایا : جس ذات نے مجھے مکہ سے مدینہ کی ہجرت کے لیے نکالا وہ اس پر قادر ہے کہ شہادت کو میری طرف کھینچ لائے۔ (طبرانی فی الاوسط ابن عساکر)