39785- عن طارق بن شهاب قال: جاء يهودي إلى عمر بن الخطاب فقال: أرأيت قوله تعالى " {وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ} فأين النار؟ فقال عمر لأصحاب محمد صلى الله عليه وسلم. أجيبوه، فلم يكن عندهم فيها شيء، فقال عمر: أرأيت النهار إذا جاء الليل يملاء الأرض فأين الآخر؟ قال: حيث شاء، فقال اليهودي: والذي نفسي بيده يا أمير المؤمنين! إنها لفي كتاب الله المنزل كما قلت."عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن خسرو وهو لفظه".
٣٩٧٨٥۔۔۔ طارق بن شہاب سے روایت ہے فرمایا : ایک یہودی حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آکر کہنے لگا : اللہ تعالیٰ کے ارشاد اس جنت کی چوڑائی زمین و آسمان جنتی ہے کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ تو جہنم کہاں ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : اسے جواب دو ! تو انھیں اس کے بارے کچھ علم نہ تھا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : دیکھا ہوگا کہ جب دن چڑھتا ہے پھر رات آکر زمین کو۔ (تاریکی سے) بھر دیتی ہے تو دن کہاں ہوا ؟ وہ کہنے لگایا چاہے اس پر اس یہودی نے کہا : امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو۔ (تاریکی سے) بھر دیتی ہے تو دن کہاں ہوا ہے ؟ وہ کہنے لگایا چاہے اس پر اس یہودی نے کہا : امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب میں ایسا ہی ہے جیسا آپ نے فرمایا ہے۔ (عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن خرو ھو لفظہ)