39791- عن عمر قال: لما كان ليلة أسرى برسول الله صلى الله عليه وسلم قال لجبريل: "أرني مالكا خازن النار، فوقف به عليه فقال: يا مالك هذا محمد رسول الله، قال: وقد بعث؟ قال: نعم، هو هذا واقف عليك! فنظر إليه رسول الله فإذا هو رجل عابس مغضب يعرف الغضب في وجهه فقال: يا مالك! صف لي جهنم، قال: يا محمد! والذي بعثك بالحق لو أن حلقة من السلسلة التي ذكرها الله وضعت على جبال الدنيا لذابت حتى تبلغ تخوم الأرض السفلى، يا محمد! إن في جهنم واديا يستعيذ بالله من جهنم في كل يوم سبعين مرة، وإن في ذلك الوادي بئرا تستعيذ بالله من ذلك الوادي ومن جهنم سبعين مرة، وإن في البئر جبا يستعيذ بالله من ذلك البئر ومن ذلك الوادي ومن جهنم سبعين مرة وإن في ذلك الجب حية تستعيذ مرة أعدها الله للفسقة من حملة القرآن من أمتك." ابن مردويه - وفيه عمر بن راشد المديني، قال أبو حاتم: وجدت حديثه كذبا".
٣٩٧٩١۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : اسراء کی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل سے فرمایا : مجھے جہنم کے نگران مالک سے ملاؤتو وہ آپ کو ان کے پاس لے گئے آپ نے فرمایا : مالک ! یہ محمد رسول اللہ ہیں انھوں نے کہا : انھیں بھیجا گیا ہے ؟ فرمایا : ہاں وہ یہ اوپر کھڑے ہیں آپ نے اسے دیکھا تو وہ ایک تندخوغضبناک شخص ہے جس کے چہرے سے غصہ معلوم ہوتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مالک ! جہنم کا حال بتاؤ ! وہ کہنے لگے : محمد ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے اس زنجیر کا ایک حلقہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے دنیا کے کسی پہاڑ پر رکھ دیا جائے تو وہ پگھل جائے یہاں تک کہ نچلی زمین کی سرحدوں تک پہنچ جائے۔
جہنم میں ایک وادی ہے جو اللہ کی جہنم سے دن میں ستر مرتبہ پناہ مانگتی ہے اور اس وادی میں ایک کنواں ہے جو اس وادی اور جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ ستر مرتبہ مانگتا ہے اور کنویں میں ایک گڑھا ہے جو اس کنوئیں اس وادی اور جہنم سے اللہ تعالیٰ کی ستر مرتبہ مانگی ہے اور اس گڑھے ایک سانپ ہے جو ایک مرتبہ پناہ مانگتا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے آپ کی امت کے فاسق حفاظ قرآن کے لیے تیارکر رکھا ہے۔ (ابن مردویہ وفیہ عمر بن راش داکلد ینی وقال ابو حاتم وجدت حدیثہ کذباً )